پشاور ہائی کورٹ نے تمام بلدیاتی نمائندوں کو بحال کردیا
عدالت نے بلدیاتی نمائندوں کو بحال کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کا نوٹی فیکیشن غیر آئینی اور اختیارات سے تجاوز قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا۔
پشاور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے بلدیاتی نمائندوں کو معطل کرنے کے نوٹی فیکیشن کو معطل کرتے ہوئے تمام نمائندوں کو بحال کردیا ہے۔
پشاور ہائی کورٹ میں الیکشن کمیشن کی جانب سے بلدیاتی نمائندوں کو معطل کرنے کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی۔
یہ بھی پڑھیے
پی ٹی آئی کی ایک اور جیت؛ پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا میں ضمنی الیکشن ملتوی کردیئے
پی ٹی آئی ایم این ایز کے استعفوں کا معالہ: پشاور ہائیکورٹ نے 15 مارچ تک جواب طلب کرلیا
عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر کیس کو نمٹاتے ہوئے مختصر فیصلہ سنا دیا۔ عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے بلدیاتی نمائندوں کو بحال کردیا۔
کیس کی سماعت جسٹس روح الامین اور جسٹس سید ارشد علی نے کی۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کا نوٹی فیکیشن کالعدم قرار دے دیا۔
دوران سماعت جسٹس روح الامین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب بلدیاتی الیکشن ہورہے تھے تو کیا اس وقت قومی اور صوبائی اسمبلی کے ممبران کو معطل کیا گیا تھا۔
الیکشن کمیشن نے 2 فروری کو بلدیاتی نمائندوں کو معطل کرنے کا نوٹی فیکیشن جاری کیا تھا۔
عدالت نے بلدیاتی نمائندوں کو بحال کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کا نوٹی فیکیشن غیر آئینی اور اختیارات سے تجاوز قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا۔









