پاکستان نے پٹرول پر سبسڈی کے اعلان سے قبل مشاورت نہیں کی، آئی ایم ایف
آئی ایم ایف اسکیم کے طریقہ کار ، لاگت، اہداف ، فراڈ اور غلط استعمال کی روک تھام اور متوازن اقدامات کے حوالے سے مزید تفصیلات طلب کر رہا ہے، ایسٹر پریز

عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف ) کی نمائندہ برائے پاکستان ایسٹر پریز نے کہا ہے کہ پاکستانی حکام نے پٹرول پر سبسڈی کی اپنی حالیہ تجویز کا اعلان کرنے سے پہلے آئی ایم ایف کے عملے سے مشاورت نہیں کی۔
ایسٹرپریز نے انگریز روزنامہ بزنس ریکارڈر کو منگل کی صبح بذریعہ پیغام ابتدائی طور پر بتایاکہ”آئی ایم ایف اسکیم کے طریقہ کار ، لاگت، اہداف ، فراڈ اور غلط استعمال کی روک تھام اور متوازن اقدامات کے حوالے سے مزید تفصیلات طلب کر رہا ہے اور ان امور کے بارے میں حکام کے ساتھ احتیاط سے بات چیت کرے گا“۔
یہ بھی پڑھیے
موٹرسائیکل، رکشوں اور چھوٹی گاڑیوں کو پٹرول پر 50 روپے سبسڈی دینے کا فیصلہ
رمضان سے قبل مہنگائی کا جن آزاد، کراچی کے شہری سب سے مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور
آئی ایم ایف کا یہ بیان وزیر اعظم شہباز شریف کے اتوار کو کیے گئے اس اعلان کے بعدسامنے آیا ہے جس میں ملک کے کم آمدنی والے طبقے کو ایک نئے ریلیف پیکیج کے ذریعےپٹرول پر 50 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی۔
آئی ایم ایف غیر فنڈ شدہ اور غیرا ہدافی سبسڈیز کو مسترد کرتا ہے اوراس کے بجائے غریب ترین طبقےکے لیے سماجی تحفظ میں اضافے کی وکالت کرتا ہے۔ وزیر مملکت برائے پٹرولیم مصدق ملک نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وزیر اعظم نے کم آمدنی والے افراد کیلیے پٹرول پر 100 روپے سبسڈی دینے کا حکم دیا ہے۔انہوں نے وضاحت کی تھی کہ امیروں کومہنگا پٹرول بیچ کراس پر ہونے والی آمدنی سے غریبوں کو سبسڈی دی جائے گی۔
ایسٹر پریز نے کہاکہ آئی ایم ایف غیر مشروط کفالت کیش ٹرانسفر اسکیم کو پاکستان میں ضرورت مندوں کی مدد کرنے کا سب سے براہ راست طریقہ سمجھتا ہے۔
اس پیش رفت کاممکنہ طور پر مطلب ہے کہ اسٹاف لیول معاہدے میں ابھی کچھ وقت لگ سکتا ہے کیونکہ حکام آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت میں مصروف ہیں۔ حکومت نے بار بار اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اس کا بیل آؤٹ پروگرام جو کہ پچھلے سال نومبر سے نویں جائزے میں تعطل کا شکار ہے جلد ہی بحال ہو جائے گا۔
آئی ایم ایف کے ساتھ حالیہ مذاکرات کے نتیجے میں پاکستان نے اضافی ٹیکس عائد کیے،بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھائیں،شرح مبادلہ کو مارکیٹ ریٹ پر منتقل اور غیر فنڈ شدہ سبسڈیز کا خاتمہ کیا ہے۔
ان اقدامات کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان نے تقریباً تمام پیشگی اقدامات کو مکمل کر لیا ہے سوائے اس بیرونی فنانسنگ کے جو آئی ایم ایف اسے 2019 میں شروع ہونے والی توسیعی فنڈ سہولت کے تحت 1.1 ارب ڈالر کی ادائیگیوں کے عوض چاہتا ہے۔اس محاذ پر تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔
اسٹاف لیول معاہدے پر بات کرتے ہوئےایسٹر پریز نے کہاکہ حالیہ دنوں میں نویں جائزے کو آگے بڑھانے کے لیے پالیسیوں کے حوالے سے بات چیت میں خاطر خواہ پیش رفت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان کو پالیسی ایجنڈے کے نفاذ میں معاونت کیلیے درکارمالی اعانت کی فراہمی کو یقینی بنانا اولین ترجیح ہے ، باقی ماندہ کچھ نکات پر عملدرآمد ہوتے ہی اسٹاف لیول معاہدہ ہوجائے گا۔









