سندھ ہائی کورٹ کے احاطے میں بےہودہ تقریب کا اہتمام، خاتون وکیل کا احتجاجی خط

ایڈووکیٹ ردا طاہر نے چیئرمین سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نام خط میں آرگنائزنگ کمیٹی کے تمام ممبران کے لائیسنس منسوخی کا مطالبہ کیا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ سے منسلک معروف ایڈووکیٹ ردا طاہر نے سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی آرگنائزنگ کمیٹی کے تمام ممبران کے لائیسنس منسوخی کا مطالبہ کردیا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ کی وکیل ایڈووکیٹ ردا طاہر نے چیئرمین سندھ بار کونسل کے نام خط لکھا ہے جس میں سندھ ہائی کورٹ بار کی آرگنائزنگ کمیٹی کے تمام ممبران کے لائیسنسز فوری طور پر معطل کیے جانے کی درخواست کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے 

ذوالفقار جونیئر ملیر ایکسپریس سے ماحول کو پہنچنے والے نقصان پر پھٹ پڑے

ماروی مظہر نے ڈی ایچ اے فیز 8 کی متنازعہ زمین پر تعمیرات کا مسئلہ اٹھادیا

خط میں ایڈووکیٹ ردا طاہر نے کہا ہے کہ 16 مارچ 2023 کو سندھ ہائی کورٹ بار میں "صوفی میوزک ایونٹ” کا انعقاد کیا گیا تھا، جس میں خواتین وکلاء کے ساتھ بار کے متعدد ممبران نے بدتمیزی کی۔

ایڈووکیٹ ردا طاہر نے خط میں لکھا ہے کہ مجھے امید ہے کہ آپ اس مسئلے کو اچھے سے دیکھیں گے۔ میں سندھ ہائی کورٹ کی  پریکٹس کرنے والی وکیل اور ایڈووکیٹ ہوں۔ میں انسانی حقوق کی کارکن بھی ہوں اور میں خاص طور پر خواتین اور بچوں کے انسانی حقوق سے متعلق بیداری مہم چلاتی ہوں۔ میں مذکورہ معاملے کے حوالے سے لکھ رہی ہوں۔

Letter from Advocate Rida Tahir

ایڈووکیٹ ردا طاہر کا کہنا ہے کہ "میں آپ کی توجہ اس حقیقت کی جانب دلانا چاہتی ہوں کہ مورخہ 16.03.2023 کو سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے لائرز انٹرٹینمنٹ کلب اور لیگل ایگلز لائرز موومنٹ کے اشتراک سے "صوفی میوزک ایونٹ” کے عنوان سے ایک تقریب کا انعقاد کیا۔ مذکورہ تقریب میں ایک ڈانس پرفارمنس بھی شامل تھی جو تفریح ​​کی آڑ میں سندھ ہائی کورٹ میں خواتین کے ساتھ بدتمیزی شرمناک مظاہرہ تھی۔ یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ اس قسم کے پروگرام کی نہ صرف اجازت دی گئی بلکہ "صوفی نائٹ” کے بہانے گھٹیا تفریح ​​کو فروغ دیا گیا۔ ایسوسی ایشن کے لیے یہ افسوسناک ہے اور وکلاء برادری کی منفی سوچ کی  عکاسی کرتا ہے۔

مزید برآں، ایک طرف قانون میں خواتین کی خدمات کو قانونی برادری کی جانب سے سراہا اور تسلیم کیا جا رہا ہے جس میں میڈم ثناء اکرم منہاس کی سندھ ہائی کورٹ میں بطور ایڈیشنل جج تقرری اور پشاور ہائی کورٹ میں جسٹس مسرت ہلالی جلد ہی پہلی خاتون چیف جسٹس ہوں گی۔

سندھ ہائی کورٹ بار میں بےہودہ ڈانس پرفارمنس کی گئیں جس کا مقصد خواتین کو تفریح ​​کا ذریعہ بنانا  تھا ، قانونی برادری کے لیے افسوس ناک اور شرمناک ہے۔ میں نہ صرف ایسی غیر اخلاقی حرکتوں کی مذمت کرتی ہوں بلکہ مطالبہ کرتی ہوں کہ تقریب کے تمام منتظمین کے لائسنس معطل کیے جائیں اور ان سے جواب طلب کیا جائے اور سندھ بار کونسل کے تمام اراکین سے باضابطہ معافی بھی مانگی جائے۔

مجھے آپ کے دفتر اور سندھ بار کونسل کے بارے میں عوامی تاثر کو بہتر بنانے کے لیے غیر اخلاقی حرکت کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے آپ جیسے بڑے معزز افسر پر مکمل اعتماد ہے۔ میں آپ کے مثبت جواب کی منتظر رہوں گی۔

متعلقہ تحاریر