ضلعی انتظامیہ کی ناقص پالیسی، مفت اٹا کی تقسیم میں بھگدڑ مچنے سے شہری جاں بحق
ڈپٹی کمشنر چارسدہ عدنان فرید نے اپنے موقف میں کہا کہ مفت آٹا تقسیم کے لیے چھ پوائنٹ مقرر ہیں مگر رش زیادہ ہونے کی وجہ سے افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے۔
خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں رمضان المبار ک کے پہلے ہی روز حکومت کی ناقص پالیسی کی وجہ سے افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے مفت آٹا تقسیم کے دوران بھگدڑ مچنے سے ایک شہری جان بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے
حکومت کی طرف سے مفت آٹا تقسیم حصول کے لیے ایک ایپ مقرر کیا گیا جس کے زریعے شہریوں کا ڈیٹا دیکھنے کے بعد مفت آٹا دینے کا میکنیزم ترتیب دیا گیا مگراس ایپ اور مکینزم کو خواتین اور غیر تعلیم یافتہ لوگ سمجھنے سے قاصر تھے ، اور حکومت کی طرف سے مفت آٹا تقسیم کا اعلان ہونے کے بعد آج صبح چھ بجے سے چارسدہ میں ایک بڑے ڈسٹریبیوشن سنٹر پر مفت آٹا لینے کے لیے ہزاروں مرد و خواتین جمع ہو گئے اور جوں ہی ڈسٹریبیوشن سنٹر کا گیٹ کھل گیا تو شدید دھکم پھیل شروع ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیے
کے پی کی نگراں حکومت اور بیوروکریسی میں رسہ کشی؛ چیف سیکرٹری پھر تبدیل
جنوبی وزیرستان میں دہشتگردوں سے جھڑپ میں آئی ایس آئی کے بریگیڈیئر مصطفیٰ کمال برکی شہید
دھکم پھیل میں ایک شخص جان بحق جبکہ متعدد مرد و خواتین زخمی ہو گئے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ کسی بھی ڈسٹریبیوشن پوائنٹ پر تاحال حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی طرف سے مفت آٹا نہیں پہنچایا گیا ہے۔
شہریوں کا موقف ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ناقص انتظامات کی وجہ سے افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔
بعض تاجروں نے الزام لگایا کہ ضلعی انتظامیہ اور آٹا ڈیلرز ایسوسی ایشن کے ایک عہدیدار نے ملی بھگت کرکے کم سے کم ڈسٹریبیوشن پوائنٹ مقرر کیے ہیں تاکہ ان کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچ سکے۔
جبکہ دوسری جانب ڈپٹی کمشنر چارسدہ عدنان فرید نے اپنے موقف میں کہا کہ مفت آٹا تقسیم کے لیے چھ پوائنٹ مقرر ہیں مگر رش زیادہ ہونے کی وجہ سے افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے۔









