چیئرمین تحریک انصاف کی 7 مقدمات میں عبوری ضمانت اسلام آباد ہائی کورٹ سے منظور
چیف جسٹس عامر فاروق نے عمران خان کی حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے پولیس کو ان کی گرفتاری سے روک جبکہ انتظامیہ کو فول پروف سیکورٹی فراہم کا حکم دے دیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی 7 مقدمات میں حفاظتی ضمانت منظور کرلی ہے، اور پولیس کو گرفتاری سے روک دیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف اور سابق وزیراعظم عمران خان 7 مقدمات میں حفاظتی ضمانت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جسے اسلام آباد ہائی کورٹ نے منظور کرتے ہوئے سیالکوٹ کی عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ عمران خان آج صبح لاہور سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوئے تھے اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
امپورٹڈ حکومت پاکستان کو لندن سے چلارہی ہے، فواد چوہدری
اسلام آباد ہائیکورٹ کا عمران خان کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق نے عمران خان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ ہم آپ کو انٹیرم بیل دے رہے ہیں۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ آپ کو اپنی پیشی پر پیش ہونا ہوگا ، لیکن ہم انتظامیہ کو ہدایت جاری کررہے ہیں کہ وہ آپ کو فول پروف سیکورٹی مہیا کرے۔
جسٹس عامر فاروق کی جانب سے عمران خان کو کتنے دنوں کی بیل دی گئی ہے اس حوالے سے تفصیل عدالت کے تفصیلی فیصلے میں آئے گی۔
ضمانت منظور کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کو انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں بھی پیش ہونے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔
عمران خان آج انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیش نہیں ہوں گے کیونکہ عمران خان کے وکیل سلمان صفدر کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ جوڈیشل کمپلیکس میں ہمیں جانے پر کوئی اعتراض نہیں ، لیکن وہاں پر پھر سے سیکورٹی مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ، پاکستان کی ایک تاریخ ہے کہ دو وزرائے اعظم کو قتل کیا جاچکا ہے جبکہ تیسرے پر قاتلانہ حملہ ہو چکاہے۔ ایسی صورتحال میں عمران خان جوڈیشل کمپلیکس میں جانا بہت رسکی ہے۔ کیونکہ ان کی جان کا شدید خطرات ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس موقع پر سرکاری وکیل سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عمران خان کو سیکورٹی فراہم کرے۔ کیونکہ وہ سابق وزیراعظم کے ساتھ ساتھ پاکستان کے شہری بھی ہیں۔









