پاکستان تحریک انصاف عدلیہ کے دفاع میں سامنے آگئی

پی ٹی آئی کے سینئر رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ عدلیہ کے خلاف بیان دینے پر وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی جائے گی۔

پاکستان تحریک انصاف کے سینئر نائب صدر اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے گذشتہ روز دھواں دھار پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف عدلیہ کے ساتھ کھڑی ہے، سپریم کورٹ کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اگر ایسا ہوا تو آئین پاکستان تحلیل ہو جائے گا۔

ان خیالات کا اظہار پی ٹی آئی کے سینئر رہنما فواد چوہدری نے گذشتہ روز زمان پارک میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی زیر صدارت پارٹی کی کور کمیٹی کے اجلاس کیا۔ اس موقع پر چوہدری پرویز الٰہی، علیم عادل شیخ، شیخ رشید، سبطین خان، اسد عمر، اعجاز چوہدری، شفقت محمود، میاں اسلم اقبال اور دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔

یہ بھی پڑھیے 

بابر اعوان نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 کو غیرآئینی قرار دے دیا

ن لیگ کا قصور جلسہ: مریم نواز کے عمران خان پر تابڑ توڑ حملے

اجلاس میں خیبر پختون خوا اور پنجاب میں انتخابات کے لیے دباؤ بڑھانے کے لیے حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

باخبر ذرائع نے دعویٰ کیا کہ پارٹی کے چند رہنماؤں نے مشورہ دیا کہ صدر عارف علوی کو مشورہ دیا جائے کہ وہ عدالتی اصلاحات کے بل پر دستخط نہ کریں۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی کی کور کمیٹی نے شاہ محمود قریشی کی سربراہی میں دو رکنی کمیٹی قائم کی ہے۔ فواد چوہدری کے اعلان کے مطابق پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی اور پرویز الٰہی کو پی ٹی آئی کی ہم خیال دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطے کا ٹاسک سونپا گیا ہے تاکہ سب کے لیے برابری کی سطح کو یقینی بنایا جا سکے۔

وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کے اس بیان کا حوالہ دیتے ہوئے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ "ہم تین ججوں پر مشتمل اس بینچ کے فیصلے کو قبول نہیں کریں گے۔” فواد چوہدری نے اعلان کیا کہ وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کے خلاف رواں ہفتے توہین عدالت کی درخواست دائر کی جائے گی۔

رہنما تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے، چیف جسٹس کی عزت کو ملیامیٹ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ججز پر بھی دباؤ ڈالا جا رہا ہے لیکن تحریک انصاف عدلیہ کے ساتھ کھڑی تھی اور کھڑی رہے گی۔

نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ سیاسی بونے عدالتوں اور نظام کو للکار رہے ہیں۔ بنچ کی تشکیل چیف جسٹس کا استحقاق ہے اور یہ چیف جسٹس کے وقار کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑا رہے گا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ مفرور مجرم کے کہنے پر سپریم کورٹ کو دھمکیاں دینا برداشت نہیں کیا جائے گا۔ فواد چوہدری نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ نواز شریف واپس آئیں، جیل نہ جائیں بلکہ لوٹی ہوئی رقم واپس کریں۔

انتقامی سیاست کا حوالہ دیتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ عمران خان کے خلاف 143 مقدمات درج ہوئے، ایسی صورتحال میں معاملات آگے نہیں بڑھ سکتے۔

پی ٹی آئی رہنما نے متنبہ کیا کہ نگران پنجاب حکومت کا اختیار 13 اپریل کے بعد ختم ہو جائے گا اور کے پی حکومت 18 اپریل کے بعد کام نہیں کر سکے گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر یہ نگران صوبائی حکومتیں اقتدار میں رہیں تو آرٹیکل 6 کا اطلاق ہو گا۔

متعلقہ تحاریر