مفتی تقی عثمانی کا سیاستدانوں اور اداروں کو مل بیٹھ کر سیاسی مسائل کا حل نکالنے کا مشورہ
اگر کسی گھر کے لوگ آپس میں لڑ رہے ہوں اور گھر میں آگ لگ جائے تو کیا اس وقت یہ بحث کی جائے گی کہ آگ کس نے لگائی یا واحد راستہ یہ ہو گا کہ سب مل کر آگ بجھائیں؟ عوام اور بااثر حضرات رہنماؤں کو ساتھ بٹھانے کی کوشش کریں، معروف عالم دین

ملک کے نامور عالم دین، مفتی اعظم پاکستان اور دارالعلوم کراچی کے روح رواں مفتی تقی عثمانی نے سیاستدانوں ، عدلیہ اور فوج کو مل بیٹھ کر سیاسی مسائل کا حل نکالنے کا مشورہ دے دیا۔
ٹوئٹرپر جاری بیان میں مفتی تقی عثمانی نے لکھا کہ اگر کسی گھر کے لوگ آپس میں لڑ رہے ہوں اور گھر میں آگ لگ جائے تو کیا اس وقت یہ بحث کی جائے گی کہ آگ کس نے لگائی یا واحد راستہ یہ ہو گا کہ سب مل کر آگ بجھائیں؟
یہ بھی پڑھیے
ریاست پاکستان کیخلاف مسلح کارروائی کھلی بغاوت اور حرام ہے، مفتی تقی عثمانی
مفتی تقی عثمانی نے ملک کی معیشت میں بہتری کا وظیفہ بتادیا
انہوں نے مزید لکھا کہ موجودہ بحران کا حل صرف یہی ہے کہ تمام جماعتیں اور ادارے منافرت اور دشمنی کے بجائے سر جوڑ کر ملک کو بچائیں۔
اگر کسی گھر کے لوگ آپس میں لڑ رہے ہوں اور گھر میں آگ لگ جائے توکیا اس وقت یہ بحث کی جائیگی کہ آگ کس نے لگائی یا واحد راستہ یہ ہوگا کہ سب ملکر آگ بجھائیں؟ موجودہ بحران کا حل صرف یہی ہے کہ تمام جماعتیں اور ادارے منافرت اور دشمنی کے بجائے سرجوڑکرملک کوبچائیں
— Muhammad Taqi Usmani (Official) (@muftitaqiusmani) April 1, 2023
مفتی اعظم پاکستان نے قرآن پاک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ”تمام مسلمان آپس میں بھائی ہیں اس لیے اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کراؤ اور اللہ سے ڈرو تاکہ تمھارے ساتھ رحمت کا معاملہ کیا جائے“۔انہوں نے کہا کہ عوام اور بااثرحضرات کا فرض ہے کہ وہ اس قرآنی حکم پر عمل کرکے رہنماوں کو ساتھ بٹھانے کی بھرپور کوشش کریں۔
فوج اور عدلیہ کو یقیناً سیاست میں دخل نہیں دینا چاھئے لیکن ایسے سنگین حالات میں جماعتوں کو ساتھ بٹھا کر غیرجانب داری سے خالص ملک کے مفاد اور قومی سلامتی کے لئے مسئلے کاحل نکالنا انکا فرض بنتا ہے اللہ تعالی اسکی توفیق عطا فرمائے آمین
— Muhammad Taqi Usmani (Official) (@muftitaqiusmani) April 1, 2023
ممتاز عالم دین نے اپنے ٹوئٹر تھریڈ میں مزیدلکھا کہ” فوج اور عدلیہ کو یقیناً سیاست میں دخل نہیں دینا چاہیے لیکن ایسے سنگین حالات میں جماعتوں کو ساتھ بٹھا کر غیر جانبداری سے خالص ملک کے مفاد اور قومی سلامتی کے لیے مسئلے کا حل نکالنا ان کا فرض بنتا ہے۔ اللہ تعالی اسکی توفیق عطا فرمائے ،آمین“۔









