8 بھارتی ریاستوں میں مسلم کش فسادات، بہار میں مدرسہ عزیزیہ نذرآتش

انتہا پسند ہندوؤں نے بہار میں مدرسہ عزیزیہ 45ہزار کتابوں سمیت راکھ کا ڈھیر بنادیا، مسلمانون کی قیمتی املاک بھی نذرآتش،فائرنگ سے ایک ہلاکت، درجنوں افراد زخمی، 100سے زائد گرفتار، موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بند، ممتا بینر جی کا بی جے پی پر سازش کا الزام

بھارت میں ہندو مذہبی تہوار”رام نومی“ کے موقع پر  بہار شریف سمیت کم از کم 8 ریاستوں میں مسلم کش فسادات پھوٹ پڑے، بہار میں فائرنگ کے نتیجے میں 16 سالہ نوجوان ہلاک اور پرتشدد ہنگاموں میں درجنوں افراد زخمی ہوگئے۔

ہندو انتہا پسندوں نے تاریخی مدرسے سمیت مسلمانوں کے گھروں، دکانوں ، گاڑیوں اوردیگر املاک کو نذرآتش کردیا۔

فسادات روکنے کیلیے سیکڑوں پولیس اہلکار تعینات کردیے گئے ہیں جبکہ موبائل اور انٹرنیٹ سروس منقطع کردی گئی ہے۔پرتشدد واقعات کے الزام میں اب تک 100 سے زائد افراد کو گرفتار کیاجاچکا ہے۔

مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بینرجی نے وزیراعظم نریندر مودی کی ہندو انتہاپسند بھارتیہ جنتا پارٹی پر اس تشدد کی منصوبہ بندی کا الزام لگایا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کانگریس رہنما راہول گاندھی نے خود کو نااہل رکن پارلیمنٹ قرار دے دیا

14 جماعتی اپوزیشن اتحاد کا راہول گاندھی کی نااہلی چیلنج کرنیکا فیصلہ

جمعرات کو ہندو تہوار کے بعدبہار میں شروع ہونے والے مسلم کش فسادات نے  حالیہ دنوں میں فرقہ وارانہ تشدد نے 7 دیگر ریاستوں کو بھی لپیٹ میں لے لیا جہاں کم از کم 13 قصبوں اور شہروں میں درجنوں افراد زخمی ہوئے اور سیکڑوں کو گرفتار کیا گیا۔  متاثرہ ریاستوں میں اتر پردیش، مدھیہ پردیش، کرناٹک اور مغربی بنگال کا علاقہ ہاوڑہ  شامل  ہے، جہاں جمعرات کو ہندو ہجوم نے توڑ پھوڑ کی اور مسلمانوں کی گاڑیوں اور دکانوں کو نذر آتش کیا۔

پولیس کے مطابق ریاست بہار کے ہندو اکثریتی قصبے میں مسلمانوں کے ساتھ تصادم کے بعد ہفتے کوضلع  نالندہ  رات گئے  سبزی لینے کیلیے گھر سے نکلنے والا 16 سالہ نوجوان فائرنگ کی ز د میں آکر ہلاک ہوگیا جبکہ 2 افراد زخمی ہوگئے ۔

ہندو انتہاپسندوں نے بہار کے ضلع نالندہ میں ملسمانوں کی دینی درسگاہ مدرسہ عزیزیہ کو آگ لگادی جس کے نتیجے میں 45 ہزار سے زائد کتابیں اور دیگر سامان راکھ کا ڈھیر بن گیا۔

اس سے قبل ہندو ہجوم نے رام نومی کی تقریبات کے دوران مسلمانوں پر حملے کیے اور ان کے گھروں اور دکانوں کو آگ لگائی۔ ہندو مذہبی تہوار رام نومی کے دوران کم از کم 8 ریاستوں میں پرتشدد جھڑپوں کے بعد فرقہ وارانہ فسادات کو روکنے کیلیے سیکڑوں پولیس اہلکار تعینات، موبائل اور انٹرنیٹ سروس منقطع کردی گئی۔

بہار پولیس کے سربراہ شبلی نعمانی نے میڈیا کو بتایا کہ جمعرات کو شروع ہونے والے تشدد کی لہر میں تقریباً 100 افراد کو اس وقت حراست میں لیا گیا ،جب ہزاروں ہندو سڑکوں پر نکل آئے اور مسلم اکثریتی علاقوں میں اشتعال انگیز طور پر مارچ کرنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ صورت حال کنٹرول میں ہے، ہم علاقے میں گشت کر رہے ہیں اور اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ کسی بھی اجتماع کی اجازت نہ ہو جبکہ بدامنی کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

مغربی ہندوستان میں جمعرات کو مودی کی آبائی ریاست گجرات میں اسی طرح کے تشدد کی اطلاع ملی جہاں مہاراشٹر کے مغربی علاقے میں اورنگ آباد کے ساتھ وڈودرا میں بھی جھڑپیں ہوئیں۔

خیال رہے کہ  پچھلے سال  بھی  رام نومی کے موقع پر نئی دہلی  اور  جھارکھنڈ سمیت کئی شہروں میں مسلم کش فسادات کے واقعات پیش آئے تھے جن  میں  ایک شخص ہلاک ہوا تھا۔

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی پر اس تشدد کی منصوبہ بندی کا الزام لگایا۔بی جے پی نے جواب میں ممتا پر ہندوؤں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا ہے۔

متعلقہ تحاریر