پنجاب اور خیبر پختونخوا انتخابات: سپریم کورٹ کے چند گھنٹے قبل رجسٹرار او ایس ڈی بنا دیئے گئے

وفاقی حکومت نے گریڈ 22 کے آفیسر عشرت علی کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کا نوٹفیکیشن جاری کردیا ہے۔ حکومت نے عشرت علی کو ستمبر 2022 میں رجسٹرار سپریم کورٹ تعینات کیا تھا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے لکھے گئے خط کی روشنی میں وفاقی حکومت نے رجسٹرار سپریم کورٹ عشرت علی کو او ایس ڈی بنا دیا گیا۔ معروف قانون دان محمد احمد پنسوٹا نے وفاقی حکومت کے اقدام پر اعتراز اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ رجسٹرار کے خلاف کوئی ایکشن لینا چیف جسٹس کا اختیار ہے اور کوئی دوسرا اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں رکھتا۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے رجسٹرار سپریم کورٹ عشرت علی کو او ایس ڈی بنانے کا نوٹیفیکیشن جاری کرتے ہوئے انہیں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے 

پنجاب اور خیبر پختونخوا انتخابات التوا کیس، فیصلہ محفوط، کل سنایا جائےگا

وفاقی حکومت نے گریڈ 22 کے آفیسر عشرت علی کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کا نوٹفیکیشن جاری کردیا ہے۔ حکومت نے عشرت علی کو ستمبر 2022 میں رجسٹرار سپریم کورٹ تعینات کیا تھا۔

وفاقی حکومت کا نوٹی فیکیشن

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ خط کا متن

واضح رہے کہ گذشتہ روز سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو فوری طور پر عہدہ چھوڑنے کا خط ان کے نام لکھا تھا۔ خط کی کاپی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وفاقی حکومت کو بھی ارسال کی تھی۔

جسٹس قاضی فاٸز عیسی نے رجسٹرار سپریم کورٹ کے نام خط لکھے گئے میں کہا تھا کہ رجسٹرار آفس کے پاس جوڈیشل آرڈر کالعدم قرار دینے کا کوٸی اختیار نہیں۔

خط کے متن میں لکھا تھا کہ چیف جسٹس آف پاکستان بھی جوڈیشل آرڈر کیخلاف کوٸی انتظامی آرڈر جاری نہیں کر سکتے۔

جسٹس قاضی فاٸز عیسی نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ رجسٹرار کا 31 مارچ کا سرکلر سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے ، آپ کو سینئر افسر کے طور پر اپنی آٸینی ذمہ داری کا ادراک ہونا چاہیے۔

قاضی فاٸز عیسی نے اپنے خط میں مزید لکھا ہے کہ سپریم کورٹ اور آپکے مفاد میں یہی ہے کہ 31 مارچ کا سرکلر واپس لیا جائے۔

خط کے متن میں مزید لکھا گیا ہے کہ رجسٹرار اپنا سرکلر جلد از جلد واپس لیں، آپ کا رویہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ رجسٹرار آفس میں رہنے کے قابل نہیں۔

آئین کے آرٹیکل کا حوالہ دیتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 175 (3) کے تحت عدلیہ اور انتظامیہ مکمل طور پر الگ الگ ہیں۔ ہر شہری کی طرح آپ پر بھی آئین کا نفاذ ہوتا ہے۔

معروف قانون دان محمد احمد پنسوٹا نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خط کی روشنی میں وفاقی حکومت کی  جانب سے رجسٹرار سپریم کورٹ کو او ایس ڈی بنانے سپریم کورٹ کے رولز آف لاء پر روشنی ڈالی ہے۔ انہوں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹیوٹر پر لکھا ہے کہ رجسٹرار جو کچھ بھی کرتا ہے ، چیف جسٹس کے حکم پر کرتا ہے۔ 1982 کے رول 8 کو دیکھا جائے تو واضح حکم ہے کہ ’’صرف چیف جسٹس کو یہ اختیار ہے کہ وہ رجسٹرار عدالت پر جرمانہ عائد کرے اور جہاں ان کے خلاف انکوائری ہو تو انکوائری افسر اپنے نتائج چیف جسٹس کو پیش کرے گا۔”

متعلقہ تحاریر