آئین کی گولڈن جوبلی تقریب میں قائم علی شاہ کو خطاب کا موقع نہ دینے پربیٹے کا شکوہ

وفاقی وزیراحسن اقبال کی جانب سے اسد علی شاہ کے شکوے کو جائز قرار دیدیا۔ قائم علی شاہ کو گولڈن جوبلی سیمینار سے خطاب کا موقع دیا جانا چاہیے تھا، وفاقی وزیر

دستور ساز کمیٹی کے واحد بقید حیات رکن اور سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کے صاحبزادے اسد علی شاہ نے آئین کی گولڈن جوبلی  پر قومی اسمبلی میں منعقدہ سیمینار میں  اپنے والد کو مدعو کیے جانے کے باوجود اظہار خیال کا موقع نہ دینےکاشکوہ کیا ہے۔

وفاقی وزیراحسن اقبال نے اسد علی شاہ کے شکوے کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قائم علی شاہ کو گولڈن جوبلی سیمینار سے خطاب کا موقع دیا جانا چاہیے تھا۔

یہ بھی پڑھیے

سندھ ہائی کورٹ میں چھ ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کا نوٹی فیکیشن

قمبر میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا دفتر کرپشن کا گڑھ بن گیا

اسد علی شاہ نے اپنے ٹوئٹر تھریڈ میں لکھاکہ”میرے والد قائم علی شاہ 1973کا آئین بنانےو الے واحد زندہ شخص ہیں۔دستور ساز کمیٹی کے رکن اور دستخط کنندہ کے طور پر انہیں مدعو کیا گیا لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ انہیں بولنے اور کہانی سنانے کا موقع نہیں دیا گیا“۔

انہوں نے کہاکہ”زیادہ ترلوگوں کو  ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی ٹیم کی جانب سے  تمام جماعتوں کے اتفاق رائے   سے 1973 کے آئین کی منظوری کی اہمیت کا احساس نہیں ہے، بہت سے لوگوں کو ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی ٹیم کی طرف سے تمام جماعتوں کے اتفاق رائے سے 1973 کے آئین کی منظوری کی اہمیت کا احساس نہیں ہے۔اسے صرف تاریخی نقطہ نظر سے سراہا جاسکتا ہے کیونکہ جس پارٹی نےپاکستان  بنایا وہ بھی آئین نہیں بنا سکی “۔

  انہوں نے مزید لکھا کہ” پہلی دستور  ساز اسمبلی 1954 میں متنازع طور پر تحلیل ہونے تک  آئین نہیں بنا سکی۔ دوسری دستورساز اسمبلی   نے 1956 کا آئین بنایا،اس دستور سازاسمبلی کو مئی 1955 کے گورنر جنرل کے حکم سے تشکیل دیا گیا تھا اور اسے لوگوں نے منتخب نہیں کیا تھا،اس لیے 1956 کا آئین قانونی نہیں تھا، کیونکہ اسے پاکستان کے عوام کے منتخب نمائندوں نے نہیں بنایا تھا،1962 کا آئین جنرل ایوب خان نے اپنی ذاتی حکومت کے لیے بنایا تھا“۔

انہوں نے 1973 کے آئین کی تشکیل کو مندرجہ بالا پس منظر میں تمام جماعتوں کے اتفاق رائے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔واضح طور پر بھٹو کا اپنے حلیفوں کے ستھ اتفاق رائے پیدا کرنا کسی معجزے سے کم نہیں تھا“۔

انہوں نے مزید کہاکہ آج کے سیاسی رہنماؤں کو اس بات سے ایک بہت بڑا سبق سیکھنا چاہیے کہ کس طرح قومی اہمیت کے معاملے پر تمام جماعتیں ذوالفقار علی بھٹو کی مدبرانہ قیادت میں متفقہ آئین بنانے کے لیے اکٹھی ہوئیں“۔

انہوں نے سوال کیا کہ”کیا ہمارے  موجودہ لیڈر م بھٹو اور 70 کی دہائی کی دیگر سیاسی  قیادت طرح  غور و فکر کر سکتا ہے، خاص طور پر انہوں نے اپنےخیالات اور نظریات میں شدید اختلاف کے باوجود پاکستان کے سب سے بنیادی دستاویز، آئین پر کس طرح اتفاق رائے حاصل کیا؟“۔

اسد علی شاہ کے ٹوئٹر پر تبصرہ کرتے ہوئے مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیراحسن اقبال نے اسد علی شاہ کے خیالات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ قائم علی شاہ کو سراہا چاہیے تھا اور اپنی یادداشتیں پیش کرنے کا موقع دینا چاہیے تھے۔

متعلقہ تحاریر