مفتاح اسماعیل کو ہر ڈویژن کو صوبہ بنانے کی تجویز پر تنقید کا سامنا

چار صوبوں کی اجارہ داری ختم کرنا ہوگی، ہر ڈویژن کا صوبہ بنائیں، صوبہ نہ بنانے ہوں تو اختیارات نچلی سطح پر منتقل کریں، سابق وزیر خزانہ: بلال محبوب، مرتضیٰ سولنگی، اسد علی شاہ اور یوسف نظر نے مفتاح اسماعیل کی تجویز کو ناقابل عمل قرار دیدیا

سابق وزیرخزانہ  مفتاح اسماعیل نے ملک میں نئے انتظامی یونٹس  اور ہر ڈویژن کو صوبہ بنانے کی تجویز پیش کردی ۔

تاہم مختلف شعبوں کے ماہرین نے مفتاح اسماعیل کی تجویز پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہوئے اسے ناقابل عمل قرا ردیدیا۔

یہ بھی پڑھیے

حکومت اور تحریک انصاف کو ایک میز پر لانے کی جماعت اسلامی کوششیں کتنی کارگر ثابت ہوں گی؟

90 لاکھ سے زائد نوجوان آئندہ انتخابات میں اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے

سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کراچی میں ملک کی سیاسی اور معاشی حالات پرتبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومتوں میں مسابقت بڑھانے کے لیے چار صوبوں کی اجارہ داری ختم کرنا ہوگی، ہر ڈویژن کا صوبہ بنائیں، صوبہ نہ بنانے ہوں تو اختیارات نچلی سطح پر منتقل کریں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری نہیں آرہی ہے تعلیم کا معیار پست ہے بچے غذائی قلت کا شکار ہیں اور روزانہ 20 لاکھ بچے بھوکے سوتے ہیں پاکستان کو کیا صرف اشرافیہ کے لیے تبدیل کریں۔

انہوں نے کہا کہ پورے پاکستان کو آگے لے کرچلنا ہوگا میں نے ایک قوم کی بات کی جس پر تنقید کی گئی میں لسانی شناخت کو ختم کرنے کی بات نہیں کررہا ہوں زیادہ بہتر ہوگا کہ خود سے کمزور کے حق کی بات کریں۔

سابق وزیرخزانہ نے کہا کہ ہر حکومت قرضوں میں اضافہ کررہی ہے حکومت کو موثرکرنا ہے تو مسابقت بڑھانا ہوگی اور حکومتوں میں مسابقت بڑھانے کے لیے چار صوبوں کی اجارہ داری ختم کرنا ہوگی، ہر ڈویژن کا صوبہ بنائیں یا اپنے اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیا جائے، صوبہ نہ بنانے ہوں تو اختیارات نچلی سطح پر منتقل کریں۔

تاہم مختلف شعبہ جات کے ماہرین  نے مفتاح اسماعیل کی تجویز کو بے وقت راگنی اور ناقابل عمل قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔

پلڈاٹ کے سربراہ بلال احمد محبوب نے سابق وزیرخزانہ کی تجویز پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہوئے لکھاکہ”ہر ڈویژن کو صوبہ بنائیں؟ کیا اس تجویز پر کوئی سنجیدہ ورکنگ کی گئی ہے؟ ہر ڈویژن کی اسمبلی، گورنر، پبلک سروس کمیشن، کابینہ، وزیر اعلیٰ ، ہائیکورٹ وغیرہ ، کیا یہ مالی طور پر قابل عمل ہے؟ لوکل گورنمنٹس کو آئینی تحفظ دے کر بھی یہ مسلہ حل ہو سکتا ہے“۔

ایس ای سی پی کے سابق سربراہ ظفر حجازی نے لکھاکہ ”یہ شوشہ ہم چالیس سال سے وقفے وقفے سے سن رہے ہیں، موصوف کوئی نئی بات نہیں کر رہے۔اگلے مرحلہ پہ یہ دیکھیے گا صدارتی نظام کی بات کریں گے“۔

سینئر صحافی و تجزیہ کار مرتضیٰ سولنگی نے مفتاح اسماعیل کی تجویز پرردعمل دیتے ہوئے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ”پاکستان میں صوبےصرف انتظامی اکائیاں نہیں ہیں بلکہ  تاریخی ادارے ہیں جنہوں نے پاکستان بنایا ،آپ کو اختیارات کی منتقلی اور مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے، آپریشنل کرنے اور آرٹیکل 140اے میں کچھ مزید ترمیم کی  ضرورت ہے“۔

ماہرہ معیشت اور سابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے فرزند اسد علی شاہ نے لکھاکہ  ”گو کہ میں مقامی حکومتوں کی حمایت کرتا ہوں لیکن ڈویژنز کو صوبوں میں تبدیل کرنے سے بڑھ کر کوئی حماقت نہیں ہوگی“۔

انہوں نے کہاکہ  ”اس سے مزید حکومتیں بنیں گی، صرف اخراجات اور غیر ضروری تنازعات بڑھیں گے۔ ایک وفاق اور 4 صوبوں میں گڈ گورننس نہ ہو تو مزید   ٹوٹ پھوٹ صرف غلط حکمرانی میں اضافہ کرے گی، جس سے مسئلہ مزید بڑھ جائے گا“۔

انہوں نے تجویز پیش کی کہ”یہ بہتر ہے کہ مشرف کی ضلعی حکومتوں اور موجودہ مقامی حکومتوں کے درمیان کوئی سمجھوتہ کر لیا جائے“۔

سیاسی ومعاشی تجزیہ کار یوسف نظر نے اپنے ٹوئٹ میں لکھاکہ چاروں صوبوں کو ختم کرنے کی بات بے موقع اور پاکستان کی تاریخ سے سبق نا سیکھنے کی دلیل ہے “۔

انہوں نے کہاکہ”پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی اجارہ داری ، اسکا وسائل پر کنٹرول  اور اسکی وجہ سے عوام کو تعلیم سے محروم رکھنا ہے“۔

انہوں نے کہاکہ” مقامی حکومتوں کو اختیارات ضرور دیں لیکن اسکے لیے فوجی مداخلت اور اجارہ داری کو ختم کرنا ہو گا اور تعلیم کو اول ترجیح دینا ہو گی“۔

متعلقہ تحاریر