عید پر پولیس نے زمان پارک میں آپریشن کا منصوبہ بنا رکھا ہے، عمران خان کا الزام

چیئرمین تحریک انصاف نے 121 مقدمات کے اخراج کی درخواست لاہور ہائی کورٹ میں دائر کردی ، عدالت نے معاملہ لارجر بینچ کےسامنے پیش کرنے کی سفارش کردی۔

سابق وزیراعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے پیر کے روز لاہور ہائی کورٹ کے سامنے پیش ہوئے ، عدالت کے روبرو عمران خان نے الزام لگایا کہ ان کے پاس مصدقہ اطلاعات ہیں کہ عید کے موقع پر زمان پارک میں ایک اور آپریشن کی منصوبہ بندی کی جاری ہے۔

عدالت کے سامنے بیان دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا اگر زمان پارک میں انہیں نقصان پہنچانے کے لیے آپریشن ہوا تو خون خرابے کا خطرہ ہے۔

ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے سفارش کی کہ عمران خان کے خلاف اسی طرح کے مقدمات کے اندراج اور تادیبی کارروائی کے خلاف درخواست کو لارجر بینچ کے سامنے رکھا جائے۔

یہ بھی پڑھیے

سکھ یاتریوں کا گور دوارہ روہڑی صاحب اور دربار صاحب کا دورہ

پنجاب کی نگراں حکومت 22 اپریل کو ختم ہو گی یا کَرتا دَھرتا پھر آئین پامال کریں گے

جسٹس طارق سلیم شیخ اور جسٹس فاروق حیدر پر مشتمل بنچ نے فائل چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو بھجوا دی۔

غلام سرور نہنگ نے جواب دیا کہ یہ سوال بھی اٹھے گا کہ درخواست گزار اس کیس میں ریلیف لینے خود آیا ہے اور جب درخواستگزار کو بلایا جاتا ہے تب پیش نہیں ہوتا، خدشے کی بنیاد پر درخواست دائر نہیں ہو سکتی، عدالت عمران خان کی درخواست مسترد کرے۔

عدالت سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ان کی رہائش گاہ پر پولیس آپریشن روکنے کا حکم جاری کیا گیا تھا لیکن اگلے روز آپریشن شروع کر دیا گیا۔

پی ٹی آئی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ آپریشن کرنے والوں نے آپریشن کرکے توہین عدالت کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ خونریزی کا خطرہ ہے۔

پنجاب حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کو گرفتار نہ کیا جائے، نہ ہی تفتیش کی جائے اور نہ ہی اس کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔

حکومتی وکیل کا کہنا تھا کہ پولیس کی تحقیقات کے اختیارات میں رکاوٹ نہیں ڈالی جا سکتی۔

عمران خان نے کہا کہ حکومت انتخابات ہارنے سے خوف زدہ ہے۔ سابق وزیر اعظم نے الزام لگایا کہ حکومت صرف انہیں جیل میں نہیں ڈالنا چاہتی بلکہ انہیں ختم کرنا چاہتی ہے۔ سابق وزیراعظم نے استدعا کی کہ عدالت پولیس کو میری رہائش گاہ پر آپریشن نہ کرنے کا حکم دے۔

انہوں نے کہا کہ علی زیدی کے ساتھ بھی ایسا ہوا اسے پکڑ لیا گیا، انہوں نے عید کی چھٹیوں میں آپریشن پلان کیا ہوا ہے، یہ الیکشن ہارنے سے ڈرے ہوئے ہیں یہ مجھے صرف جیل نہیں نیں ڈالنا چاہ رہے یہ مجھے ختم کرنا چاہ رہے ہیں، پہلے بھی حملہ ہوا اور اللہ نے مجھے بچا لیا، پلیز آپ انہیں آپریشن کرنے سے روکیں۔

سماعت کے آغاز پر عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان کے خلاف نئے مقدمات درج ہو رہے ہیں، ریاست کی مشینری کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کے خلاف 140 سے زائد مقدمات ہیں، عمران خان کی گرفتاری کا خدشہ ہے، پولیس کو عدالت میں آ کر بتانا چاہیے کہ کیا گرفتاری ضروری ہے.

سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان کے خلاف تمام مقدمات میں مدعی پولیس ہے، پولیس اسٹیشنز کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال کر رہا ہے. انہوں نے کہا کہ قانون کے مطابق گرفتاری کے لیے وجوہات کا بتانا ضروری ہوتا ہے، اتنے زیادہ مقدمات کا سامنا کرنا ممکن نہیں ہے، کل عمران خان نے 9 مقدمات میں ضمانت کے لیے اسلام آباد پیش ہونا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ رمضان کا مہینہ مکمل ہو رہا ہے پھر عید ہے اور عدالتیں بند ہوں گی، اطلاعات ہیں کہ آخری عشرے اور عید کے قریب زمان پارک میں آپریشن ہو سکتا ہے۔

متعلقہ تحاریر