ملک بھر میں بیک وقت انتخابات: چیف جسٹس کا سیاسی جماعتوں کو مسئلہ حل کیلئے آج ہی مذاکرات کا مشورہ، سماعت میں وقفہ
چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے وزارت دفاع اور شہری کی درخواست کی درخواست پر سماعت کی۔
سپریم کورٹ نے ملک بھر میں ایک ساتھ عام انتخابات کے انعقاد کے لیے وزارت دفاع اور اسلام آباد کے شہری فدا محمد خان کی جانب سے دائر درخواستوں کی سماعت کررہا ہے ، تاہم چیف جسٹس نے تمام سیاسی جماعتوں کو مشاورت کا مشورہ دیتے ہوئے سماعت 4 بجے تک کے لیے ملتوی کردی ہے۔ جسٹس منیب اختر کا کہنا ہے کہ عدالت نے واضح حکم دے دیا کہ پنجاب میں انتخابات 14 مئی کو ہوں گے ، سپریم کورٹ کا حکم کوئی واپس نہیں لے سکتا۔
چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل تین رکنی بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے۔
اس موقع پر پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی اور بابر اعوان، پیپلز پارٹی کے لطیف کھوسہ، فاروق ایچ نائیک اور قمر زمان کائرہ، مسلم لیگ ن کے رہنما عطاء تارڑ، وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، ایاز صادق، طارق بشیر چیمہ، سعد رفیق، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور دیگر رہنما بھی عدالت میں موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
پنجاب اںتخابات: پی ٹی آئی نے 297 امیدواروں میں ٹکٹس کی تقسیم کردی
عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس سننے والے جج ظفر اقبال کا تبادلہ
بدھ کے روز سپریم کورٹ نے ملک بھر میں ایک ساتھ عام انتخابات کے انعقاد کے لیے وزارت دفاع اور ایک شہری کی جانب سے دائر درخواستوں پر بڑی سیاسی جماعتوں کو آج کے لیے نوٹس جاری کیے تھے۔
جیسے ہی کارروائی شروع ہوئی، عدالت نے اٹارنی جنرل پاکستان منصور عثمان اعوان کی درخواست پر سماعت میں 15 منٹ کا وقفہ لیا۔
سماعت دوبارہ شروع کرتے ہوئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کو عظیم کام کرنے پر خراج تحسین پیش کیا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت حکم دے تو پیچیدگیاں پیدا ہوں گی، سیاسی رہنما مسئلہ حل کریں تو بہت اچھا ہوگا۔ قوم میں بے چینی ہے۔ اگر قیادت مسئلہ حل کرے گی تو امن ہوگا۔
چیف جسٹس کی جانب سے یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تمام سیاسی جماعتیں انتخابات پر مشترکہ موقف اپنانے کی عدالت کی تجویز سے اتفاق کرتے ہیں، پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وہ عدالت کے ہر لفظ کا احترام کرتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ملک کو آئین کے مطابق آگے بڑھنا ہے۔
شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ دیکھنا باقی یہ ہے کہ حکومت کیا موقف اختیار کرتی ہے، پی ٹی آئی آئین کے تحفظ کے لیے سپریم کورٹ کے ساتھ کھڑی ہے۔
حکومتی وکیل شاہ خاور نے کہا کہ جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ملک بھر میں ایک ہی دن انتخابات کرائے جائیں۔
پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ یہ مخلوط حکومت کی اجتماعی رائے ہے کہ انتخابات کے لیے 90 دن کی ڈیڈ لائن گزر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران جماعتیں کشیدگی کے خاتمے کے لیے پی ٹی آئی سے دوبارہ مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہیں۔
سینئر ایڈووکیٹ فاروق ایچ نائیک کا مزید کہنا تھا کہ ملک بھر میں نگراں حکومتوں کے تحت انتخابات ہونے چاہئیں۔ سیاسی معاملات سیاسی جماعتوں کے درمیان طے ہونے چاہئیں، ہم سمجھتے ہیں کہ کسی بھی ادارے کو سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔
وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ملک بھر میں ایک ہی دن انتخابات ہونے چاہئیں، انہوں نے مزید کہا کہ وہ انتخابات پر مذاکرات کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ عید کے بعد پارٹی رہنماؤں کا اجلاس بلایا گیا ہے، سیاستدان اداروں کا وقت ضائع کرنے کے بجائے آپس میں بات کریں۔
پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ان کی پارٹی کو امید ہے کہ انتخابات پر جلد اتفاق رائے ہو جائے گا۔
مسلم لیگ (ق) کی نمائندگی کرتے ہوئے وزیر طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ اگر عدالت انتخابات پر فیصلہ دیتی ہے تو اس پر تنقید ہوگی، جب کہ تمام سیاسی رہنماؤں کا فیصلہ عوام کے لیے قابل قبول ہوگا۔
عمران خان کی جانب سے شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ کوئی راستہ نکالنے کی کوشش کریں گے۔
شیخ رشید کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ پوری قوم کا اجتماعی فیصلہ ہوگا۔
سراج الحق نے عدلیہ، فوج اور الیکشن کمیشن کو سیاست سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ تمام جماعتوں کو اپنے موقف سے تھوڑا ہٹنا ہوگا۔
انہوں نے انتخابات کے لیے عیدالاضحیٰ کے بعد کی تاریخ بھی تجویز کی۔
فاروق نائیک نے عدالت کو بتایا کہ پارٹی ٹکٹ دینے کا آج آخری دن ہے، اور عدالت سے ڈیڈ لائن میں توسیع کرنے کو کہا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن پولنگ شیڈول میں ردوبدل کا اختیار رکھتا ہے۔









