افغان خواتین طالبان حکومت کے مظالم کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں
افغان دارالحکومت کابل خواتین نے احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا جس میں طالبان حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی اور انہیں غیر ملکی حملہ آوور قراردیتے ہوئے اقوام عالم سے طالبا حکومت کو تسلیم نہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے

افغانستان کی خواتین طالبان حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں۔ افغان خواتین کی جانب سے طالبان حکومت کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں انہیں غیر ملکی شہری قرار دیا گیا ۔
افغان دارالحکومت کابل خواتین نے احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا جس میں طالبان حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی اور انہیں غیر ملکی حملہ آوور قرار دیا گیا ۔
یہ بھی پڑھیے
بھارتی سپریم کورٹ کا مذہب سے بالاتر ہوکر نفرت انگیز تقاریر پر فوری مقدمات درج کرنے کا حکم
افغان خواتین نے امریکا سمیت عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اگلے ہفتے اقوام متحدہ کے سربراہی اجلاس سے قبل طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہ کریں۔
افغان خواتین نے دوران احتجاج طالبان حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی۔ انہوں نے کہا کہ طالبان نے افغان عوام یرغمال بنایا ہوا ہے مگر ہم اپنا حق لیکر رہے گے ۔
امریکی انخلاء کے بعد افغانستان میں طالبان حکومت بننے کے بعد ملک میں خواتین کے حقوق پر شدید ترین پابندیاں عائد کی گئیں جبکہ تشدد کے واقعات بھی سامنے آرہے ہیں۔
طالبان کےاقتدار میں آنے کے بعد ملک میں بدترین آمریت قائم ہوچکی ہے۔ افغان حکام کی جانب سے احتجاج کرنے والے افراد کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے حراست میں بھی لیا گیا۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ افغانستان کے ‘ڈی فیکٹو حکام’ کو دوحہ کانفرنس میں مدعو نہیں کیا گیا۔ حکام نے کہا کہ افغانستان کیلئے ایک "پائیدار راستہ” پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے
بی جے پی کے رکن اسمبلی کے خلاف خواتین ریسلرز سے جنسی زیادتی کے الزام میں مقدمہ درج
یاد رہے کہ 2021 میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے بعد طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک کسی بھی ملک نے حکومت کو جائز تسلیم نہیں کیا۔
1996 سے 2001 تک حکومت کرنے والی طالبان کی سابقہ حکومت کو صرف تین ممالک پاکستان، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے رسمی طور پر تسلیم کیا تھا۔









