مفت آٹا اسکیم میں 20 ارب روپے سے زائد کی کرپشن ہوئی، شاہد خاقان

سابق وزیراعظم اور رہنما مسلم لیگ (ن) لیگ شاہد خاقان عباسی نے الزام لگایا ہے کہ رمضان المبارک میں مفت آٹا اسکیم میں 20 ارب روپے سے زائد کی کرپشن کی گئی۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر ترین رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے شروع کی گئی مفت آٹا اسکیم میں 20 ارب روپے سے زائد کی کرپشن ہوئی ہے۔

لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ جب تک سیاسی قیادت وژن نہیں دے گی نظام نہیں چل سکتا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے صرف 84 ارب روپے کے بجٹ سے مفت آٹا تقسیم کرنے کی اسکیم متعارف کرائی ، جس میں 20 ارب روپے سے زائد کی کرپشن ہوگئی۔ غریبوں کو کیا ملا جن کے لیے 84 ارب روپے خرچ ہوئے؟

یہ بھی پڑھیے 

عمران خان نے 14 مئی کے بعد قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی حکومتی تجویز مسترد کردی

نیازی ثاقب گٹھ جوڑ عدلیہ پر اثر انداز ہو رہا ہے، عطاء اللہ تارڑ

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ موجودہ نظام میں سہولتیں نہیں دے سکتے، ہر کوئی تماشائی بن کر بیٹھا ہے، جہاں سیاسی دشمنیاں نفرتوں میں بدل چکی ہیں، ملکی مسائل قیادت کی نااہلی کی وجہ سے حل نہیں ہو رہے ، قائدین میں آج وہ لوگ بیٹھے ہیں جن میں اہلیت نہیں ہے۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سیاستدانوں میں صلاحیت ہو تو مسائل حل ہوں گے، جب تک عدلیہ اور بیوروکریسی میں اصلاحات نہیں ہوں گی ملک نہیں چلے گا۔ پارلیمنٹ اچھی ہو یا بری اس کے فیصلوں کو تسلیم کرنا پڑے گا۔

اس قبل تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ موجودہ طرز حکمرانی کو ختم کرکے نیا ماڈل متعارف کرانا چاہیے۔

دوسری جانب وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے شاہد خاقان عباسی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کے باوجود پنجاب، خیبرپختونخوا، سندھ اور اسلام آباد میں لاکھوں غریبوں میں مفت آٹا مکمل ایمانداری اور شفافیت کے ساتھ تقسیم کیا گیا۔ آٹا اسکیم کی نگرانی خود وزیر اعظم نے کی۔

مریم اورنگزیب نے مزید کہا ہے کہ "وزیراعظم نے مفت آٹے کی تقسیم کا جائزہ لینے کے لیے مختلف شہروں کے دورے بھی کیے، تاریخی اسکیم کی کامیابی کے لیے انتظامی افسران اور عملے نے دن رات کام کیا جو کہ قابل تعریف ہے۔”

متعلقہ تحاریر