بھارت کی ایک اور مسلم دشمن فلم’دی کیرالہ اسٹوری‘پر تنقید کے بعد فلمساز کا یوٹرن

وپل شاہ نے یوٹیوب پر ٹیزر کی تفصیلات تبدیل کردیں،ابتدائی طور پر فلم کو 32 ہزارنومسلم  لڑکیوں کی کہانی قراردیا گیاتھا جو داعش کا حصہ بن گئیں، اب صرف 3 لڑکیوں کی کہانی قرار دیدیا ۔ وزیراعلیٰ نے فلم کو کیرالہ کیخلاف ساز ش اور سنگ پریوار کا پروپیگنڈا قرار دیدیا، بھارتی سپریم کورٹ کا فلم پرپابندی سےا نکار

کشمیر فائلز کے بعد بھارت کی ایک اور پروپیگنڈا  فلم ’ دی کیرالہ اسٹوری ‘ تنقید کی زد میں آگئی۔بھارتی میڈیا اور عوامی حلقوں نے فلم کے موضوع کو شدید تنقیدکا نشانہ بنایا ہے۔

فلم کے ٹیزر میں دعویٰ کیا گیاتھا کہ کیرالہ کی 32 ہزار لڑکیاں اسلام قبول کرنے کےبعد افغانستان جاکر داعش کا حصہ بن گئیں تاہم تنقید کے بعد فلمساز اپنے دعوے سےپیچھے ہٹ گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

اسرائیلی فلم ساز کی فلم "کشمیر فائلز” پر کڑی تنقید سے بھارتی آگ بگولہ ہوگئے

سنگاپور نے متنازع بھارتی فلم ‘کشمیر فائلز’ پر پابندی لگا دی

ہندوستان ٹائمز کے مطابق ابتدائی طور پر یوٹیوب پر جاری کردہ فلم کے   ٹیزر میں  دعویٰ کیا گیاتھا کہ یہ فلم بھارت کی جنوبی ریاست کیرالہ کی 32 ہزار لڑکیوں  کی دل دہلا دینے والی کہانیوں پر مشتمل فلم ہے جو  اسلام قبول کرنے کےبعد اپنے شوہروں کے ساتھ  افغانستان منتقل ہوکر داعش کا حصہ بن گئیں اور اب وہاں مشکلات سے دوچار ہیں۔

تاہم کیرالہ کے متعدد سماجی کارکنوں،صحافیوں اور ریاستی وزرا  کی جانب سے  فلم پر سوالات اٹھائے جانے کے بعد فلمساز نے پینترا بدلتے ہوئے یوٹیوب پر موجود فلم کے ٹیزر کی تفصیلات میں 32 ہزار لڑکیوں کا ذکر گول کردیااور فلم کو صرف 3 لڑکیوں کی  سچی کہانی پر مشتمل  قرار دیا ہے۔

سابق بھارتی وزیرخارجہ ششی تھرور نے بھی فلمساز کی جانب سے اس کے ٹیزر میں کی جانے والی تبدیلی کی نشاندہی کی ہے۔اس سے قبل انہوں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں فلمساز کے دعوے کو مبالغہ آمیز قرار دیا تھا۔

انہوں نے کہاکہ تھا کہ میں اپنی بیٹیوں کیلیے متفکر کیرالہ کی 3 ماؤں سے ملا تھااور چوتھی واقف تھا لیکن 4 واقعات اور 32ہزار میں بہت بڑا فرق ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر داعش میں شمولیت اختیار کرنے والی خواتین کی تعداد 32 ہزار مان لی جائے تو پھر ان کے شوہروں کو ملاکر یہ تعداد دگنی ہوجائے گی جبکہ مغربی انٹیلی جنس کا بھی یہ دعویٰ کہ داعش میں شمولیت اختیار کرنے والے بھارتی کی تعداد 3 ہندسوں سے زیادہ نہیں ہے۔

یہ پیش رفت کیرالہ کے وزیراعلیٰ  کے اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے فلم’دی کیرالہ اسٹوری‘ کو سنگ پریوار کے نفرت انگیز پروپیگنڈے کا حصہ قرار دیا تھا جبکہ مسلم یوتھ لیگ کیرالہ نے فلم کیے گئے دعوے کو سچ ثابت کرنے والوں کو ایک کروڑ روپے انعام دینے کا اعلان کیا تھا۔

اتوار کو کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پنارائی وجین نے ’دی کیرالہ سٹوری‘ کے فلمسازوں کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا ۔ بھارت کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق انھوں نے کہا کہ فلم ساز ’لو جہاد‘ کا مسئلہ اٹھا کر سنگھ پریوار کے پروپیگنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’لو جہاد‘ ایک ایسی اصطلاح ہے جسے عدالتوں، تحقیقاتی ایجنسیوں اور یہاں تک کہ وزارت داخلہ نے بھی مسترد کر دیا ہے۔

ایک بیان میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایسی پروپیگنڈا فلم اور اس میں مسلمانوں کو جس طرح دکھایا گیا ہے اسے ریاست میں سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی سنگھ پریوار کی کوششوں سے جوڑا جانا چاہیے۔انہوں نے سنگھ پریوار پر ریاست کی مذہبی ہم آہنگی کو بگاڑنے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا۔

فلم دی کیرالہ اسٹوری کو وپل شاہ نے پروڈیوس کیا ہے۔ اس کی ہدایت کاری سودیپٹو سین نے دی ہے اور اس کا سکرپٹ بھی انھوں نے ہی لکھا ہے۔فلم کا ٹیزر 7روز قبل جاری کیا گیاتھاجسے یوٹیوب پر اب تک ایک کرور 70 لاکھ مرتبہ دیکھا جاچکا ہے۔

ہدایت کار سودیپتو سین کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے اس فلم کی کہانی پر سات سال تک کام کیا ہے اور اس دوران انھوں نے متاثرہ لڑکیوں سے ملاقات اور انٹرویو کیے ہیں۔

ہدایت کاار کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے اصل تعداد جاننے کے لیے عدالت میں معلومات کے حق کے تحت درخواست دائر کی ہے لیکن ابھی تک رپورٹ موصول نہیں ہوئی ہے۔

فلمساز وپل شاہ نے بھی فلم کا دفاع کرتے ہوئے اسے برسوں کی تحقیق اور محنت کا نتیجہ قرار دیا۔ وپل شاہ نے کہا ہے کہ یہ فلم ایسی سچی کہانی بیان کرتی ہے جو پہلے کسی نے بتانے کی ہمت نہیں کی۔

دوسری جانب بھارتی سپریم کورٹ نے فلم کی نمائش پر پابندی کی درخواست کو مسترد کردیا ہے۔درخواست گزار نے فلم  کو نفرت انگیزبیانیے کی بدترین قسم اور صوتی و بصری پروپیگنڈا قرار دیاتھا۔

متعلقہ تحاریر