اپسوس سروے میں پاکستان بے کاروں کی قوم اور دنیا کا پانچوں پرُ امید ملک قرار

10 میں سے 8پاکستانی پرانا پاکستان چاہتے ہیں، 86فیصد عوام ملک کی سمت کو غلط سمجھتے ہیں لیکن 53فیصد مستقبل سے پراُمید ہیں،پاکستان ذہنی صحت پر جسمانی صحت کو ترجیح دینے والے 11ممالک میں شامل، 85فیصد عوام خواتین کیلیے اچھی بیوی اور ماں کے کردار کو بہترین سمجھتے ہیں،سروے

فرانس سے تعلق رکھنے والی بین الاقوامی مارکیٹ ریسرچ کمپنی”اپسوس“کے سروے میں پاکستان کو بے کاروں کی قوم اور دنیا کا پانچواں پراُمید ترین ملک قرار دیا گیا ہے۔

 بدھ کو جاری کردہ عالمی رجحانات کے سروے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 10 میں سے 8پاکستانی پرانا پاکستان چاہتے ہیں،83فیصد عوام سمجھتے ہیں کہ ملک غلط سمت میں ہے لیکن 53فیصد مستقبل کے بارے میں پراُمید ہیں،70فیصد پاکستانی خریداری میں برانڈز کو ترجیح دیتےہیں،  85 فیصد پاکستانی خواتین کیلیے اچھی بیوی اور  ماں کے کردار کو بہترین سمجھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

صرف نو فیصد پاکستانی آن لائن شاپنگ کرنے میں دلچسپی لیتے ہیں، گیلپ سروے کی رپورٹ

72فیصد کاروباری ادارے ممکنہ ڈیفالٹ کی وجہ سے پریشان ہیں، گیلپ  سروے

پاکستان میں برانڈ امیج دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ اہمیت رکھتا ہے کیونکہ تازہ ترین سروے میں 70 فیصد جواب دہندگان نے بتایا کہ وہ معروف برانڈ پر زیادہ خرچ کرنے کو تیار ہیں۔پاکستانیوں کے اس رجحان کی وجہ سے تمام شعبہ جات میں برانڈز میں اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان عالمی موسمیاتی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے

عالمی، علاقائی اور ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کے رجحانات کے حوالے سے کیے گئےاپسوس کے  سروے کے اعداد و شمار کے تجزیے سے  پتہ چلتا ہے کہ پاکستان عالمی موسمیاتی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے۔ گزشتہ سال ملک میں سیلاب آنے سے پہلے پاکستانی عالمی درجہ بندی میں وسط میں موجود تھا۔ لیکن سروے میں کہا گیا ہے کہ سیلاب کے بعد خاص طور پر نوجوانوں میں خیالات بدل رہے ہیں۔

اپسوس نے ستمبر اور نومبر 2022 کے درمیان 16 سال سے زیادہ عمر کے 48ہزار541 افرادکا انٹرویو کیا۔ زیادہ تر مارکیٹوں میں یہ سروے  آن لائن کیا گیا،اگرچہ  پاکستان اور کینیا میں ٹیلی فون پر کیا گیا۔

پاکستان ذہنی صحت پر جسمانی صحت کو ترجیح دینے والے11ممالک میں شامل ہے

سروے میں کہا گیا ہے کہ زیادہ تر پاکستانیوں کے لیے ذہنی  صحت جسمانی صحت کے مقابلے میں  ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔ 50 میں سے صرف 11 ممالک میں لوگوں نے ذہنی  صحت پر جسمانی صحت کو ترجیح دی۔ اپسوس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان 11 ممالک میں سے ایک ہے۔

پاکستان ڈیٹا کے حوالے سے بے حسی کا گھر قرار

سروے میں پاکستان کو ڈیٹا کے حوالے سے”بے حسی کا گھر“قراردیا گیا ہے۔سروے کےمطابق عالمی سطح پر اکثریتی رحجان کے برعکس پاکستانیوں کو  اپنی راز داری  یا  اداروں اور حکومت   کی جانب سے خود پر  نظر رکھے جانے کی فکر نہیں ہے۔

تاہم پاکستان بھی ان پانچ ممالک میں شامل ہے جو ٹیکنالوجی کے حوالے سے فکر مند ہیں کیونکہ وہ یہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ”تکنیکی ترقی ہماری زندگیوں کو تباہ کر رہی ہے“۔

پاکستان بے کاروں کی قوم، فنون میں سب سے پیچھے ہیں

سروے نے  پاکستان کو ’’بے کاروں کی قوم‘‘ بھی قرار دیا ہے۔ پاکستانی 50 ممالک میں فنون کی مختلف اقسام کی کھپت میں سب سے نیچے ہیں اورانہوں نے تفریح، کھیلوں اور دیگر سرگرمیوں میں بہت کم مصروفیت سے آگاہ کیا ۔

پاکستانیوں نے بھی حکومت سے زیادہ کاروباری شخصیات پر اعتماد کا مظاہرہ کیا۔ لوگوں کا حکومتی شخصیات کے مقابلے میں کاروباری  شخصیات پر زیادہ اعتماد ہے، جو کہ تمام ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں  پائے جانےوالے وسیع رجحان سے مطابقت رکھتا ہے  ۔

صنفی مساوات کے حوالے سے پاکستانیوں کا رویہ”عالمی اوسط سے بہت دور“پایا گیا، تقریباً 85 فیصد پاکستانی اس بات پر متفق ہیں کہ خواتین کا کردار اچھی ماں اور بیوی بننا ہے۔

83 فیصد پاکستانی پرانا پاکستان چاہتے ہیں

سروے میں بتایا گیا ہے کہ 10 میں سے 8 پاکستانی’پرانا‘ پاکستان چاہتے ہیں۔ تقریباً 83 فیصد لوگ چاہتے ہیں کہ ملک پہلے جیسا ہوجائے۔ تقریباً 78 فیصد لوگوں نے کہا کہ اگر انہیں انتخاب کا موقع دیا جائے تو وہ اس دور میں پروان چڑھنا چاہیں گے  جس میں ان کے والدین نے پرورش پائی تھی ۔

پاکستان دنیا کا پانچواں پرامید ترین ملک قرار

سروے میں کہا گیا کہ پاکستان دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ پر امید ملک ہے۔  اس حقیقت کے باوجود کہ86فیصد لوگوں کی ایک خطرناک تعداد   یہ محسوس کرتی ہے کہ ملک غلط راستے پر ہے اور73فیصد  کہتے ہیں کہ وہ خوش نہیں ہیں  لیکن ان میں سے نصف سے زیادہ 53 فیصد  ملک کے مستقبل کے بارے میں  اب بھی پر امید  ہیں۔

متعلقہ تحاریر