لاہور ہائی کورٹ نے پرویز الہیٰ کو کسی بھی مقدمے میں گرفتاری سے روک دیا
پرویز الہیٰ کے وکیل عامر سعید کے دلائل کی روشنی میں لاہور ہائی کورٹ نے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو 7 روز میں تمام مقدمات کی تفصیلات جمع کرانے کا حکم دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور تحریک انصاف کے صدر پرویز الہیٰ کو کسی بھی مقدمے میں گرفتار نہ کرنے کا حکم جاری کردیا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس صفدر سلیم شاہد نے 2 مئی 2023 تک درج کسی بھی ایف آئی آر میں پرویز الہیٰ کو گرفتار نہ کیا جائے۔
سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس صفدر سلیم شاہد نے تحریری حکم نامہ جاری کیا ہے۔
عدالت عالیہ کے تحریری حکم میں کہا گیا ہے کہ تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے پرویز الہیٰ کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات عدالت مین پیش کریں۔
یہ بھی پڑھیے
عمران خان اور بشریٰ بی بی کا نکاح کیس: گواہ عون چوہدری کا بیان قلمبند
چوہدری شجاعت مسلم لیگ ق کے صدر رہیں گے، ای سی پی کا فیصلہ
دوران سماعت پرویز الہیٰ کے وکیل ایڈووکیٹ عامر سعید نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ پرویز الہیٰ کے خلاف درج خفیہ مقدمات میں پولیس کسی بھی لمحے انہیں گرفتار کرسکتی ہے۔
ایڈووکیٹ عامر سعید کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے میرے موکل کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات فراہم نہیں کررہے ، لہٰذا عدالت اداروں کو تفصیلات فراہم کرنے کے لیے حکم دے۔ جب تک کسی بھی پٹیشن کا فیصلہ نہیں ہوتا ، پرویز الہیٰ کو گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا جائے۔
پرویز الہیٰ کے وکیل عامر سعید کے دلائل کی روشنی میں لاہور ہائی کورٹ نے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو 7 روز میں تمام مقدمات کی تفصیلات جمع کرانے کا حکم دے دیا۔









