پیوٹ ٹو چائنا لیک کے بعد مشکلات بڑھ گئیں؛ امریکی عدم تعاون پر پاکستان مایوسی کا شکار
جاپانی اخبار ایشیاء نکی نے رپورٹ کیا کہ پاک چین تعلقات پر لیک مراسلے سے اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان خلیج بڑھنے لگی ہے، امریکی کی عدم حمایت پر حکومت مایوسی کاشکار ہے تاہم پاکستان نے ماضی کی طرح سعودی اور چین کی مدد حاصل کی تو امریکا خطرات میں گھر سکتا ہے

بین الاقوامی مالیاتی جریدے ایشیا ءنکی نے کہا ہے کہ پاکستان سخت معاشی بحران سے نبرد آماز ہے جبکہ امریکی حمایت کے حصول میں ناکامی اسے مزید پیچیدہ بنارہی ہے جس سے اسلام آباد مایوسی کاشکار ہے ۔
جاپان کے عالمی شہرت یافتہ فنانشل اخبار ایشیاء نکی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہےکہ پاکستان شدید مالی مشکلات کا سامنا کررہا ہے جبکہ پیوٹ ٹو چائنا لیک کے بعد پاکستان کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستان کا واشنگٹن پوسٹ کی خبر پر تبصرے سے انکار؛ امریکی و چینی حکام بھی خاموش
نکی ایشیاء نے رپورٹ میں بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر کی پاک چائنا تعلقات سے متعلق لیک مراسلے سے امریکا اور پاکستان کے درمیان خلیج نمایاں ہوگئی۔
جاپانی اخبار دعویٰ کیا ہے کہ ڈسکارڈ میمو کے بعد اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات سرد مہری کا شکار ہورہے ہیں جبکہ معاشی مشکلات میں مبتلا پاکستان امریکی حمایت پر ناکامی میں مایوسی کا شکار ہے ۔
نکی ایشیاء کے مطابق پاکستان اپنی مستقبل کی سفارتی سمت کے بارے میں ایک شدید بحث میں گھرا ہوا ہے۔ حالیہ کیبل لیک کے بعد حکومت کے چین کے ساتھ مل کر چلنے کے رجحان کو بے نقاب کر دیا۔
مالیاتی ادارے نے ماہرین کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکی کی عدم حمایت کی وجہ سے پاکستان تنگ آچکا ہے جبکہ بدترین معاشی بحران نے اسلام آباد کو دیوالیہ کے قریب پہنچایا دیا ہے ۔
اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ کیبل لیکس پاکستان کی سویلین قیادت اور اس کی طاقتور فوج کے درمیان تقسیم کو نمایاں کرتی ہیں جو کہ عام طور پر حریف سپر پاورز کے ساتھ تعلقات میں توازن کو ترجیح دیتی ہیں۔
اخباری رپورٹ کے مطابق پاک امریکا تنازعہ گزشتہ ماہ کے آخر میں پیش آیا جب میڈیا پر پاکستانی حکومت کے ایک اندرونی میمو کے ذریعے انکشاف ہوا کہ پاکستان مکمل طور پر چائنا کی جانب جانے والا ہے ۔
وزیر مملکت برائے امور خارجہ حنا ربانی کھر کے میمو میں کہا گیا تھا کہ قوم اب چین اور امریکہ کے درمیان درمیانی بنیاد برقرار رکھنے کی کوشش نہیں کر سکتی جس سے امریکی حکام سخت صدمے کا شکار ہوئے۔
جاپانی جریدے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ماضی میں پاکستان نے سعودی عرب اور چین کے تعاون سے اپنی معاشی مشکلات پر قابو پایا تاہم اگر ایسا دوبارہ ہوا تو یہ واشنگٹن کے لیے خطرے کی گھنٹی ہوگی ۔
نکی ایشیاء نے اپنی رپورٹ میں ایک پاکستانی اہلکار کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اسلام آباد نے امریکا کو چھوڑ کر مکمل طور پر بیجنگ کی طرف جانے کا رادہ کرلیا ہے تاہم اس پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ بھی پڑھیے
آرمی چیف کا دورہ چین؛ پی ایل اے کمانڈر سے سیکیورٹی اور فوجی تعاون پر تبادلہ خیال
اخباری اسٹوری میں بتایا گیا ہے کہ سری لنکا اور بنگلہ دیش نے حالیہ مہینوں میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے مالی امداد حاصل کی ہے، پاکستان اس فنڈ کے ساتھ اپنا نواں جائزہ معاہدہ مکمل کرنے سے قاصر رہا ہے۔
آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے چین اور سعودی عرب کی جانب سے مالی معاونت کی یقین دہانیوں کے ساتھ معاشی اصلاحات کےلیے مزید شرائط عائد کیں تاہم اسلام آباد نے اسے تسلیم کرنے سےانکار کیا ۔
اسلام آباد کا اصرار ہے کہ آئی ایم ایف کی تمام تر شرائط پوری کردی گئی ہیں لیکن بین الاقوامی مالیاتی ادارے نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے جبکہ پاکستان کو اس حوالے سے امریکی مدد کی توقع بھی تھی ۔









