انٹرنیٹ کی بندش: تین دن میں پاکستان کو اربوں روپے کا نقصان، جی ایس ایم اے نے فوری بحالی کا مطالبہ کردیا

آل پاکستان سافٹ وئیر ایکسپورٹ ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تین دن میں آیی ٹی سیکٹر کو دس ارب کا نقصان ہوچکا ہے۔ آئی ٹی سیکٹر کا ایک دن کا کاروبار بارہ ملین ڈالر ہے۔

پاکستان میں انٹرنیٹ کی بندش سے گذشتہ 3 روز کے دوران ٹیلی کام سیکٹر کو ڈھائی ارب سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے ، جبکہ موبائل انڈسٹری کی عالمی تنظیم جی ایس ایم اے نے ملک میں براڈ بینڈ انٹرنیٹ کی فوری بحالی کا مطالبہ کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ملک میں انٹرنیٹ کی بندش ڈیجیٹل پاکستان کو سب سے بڑا دھچکا لگا ہے۔

ٹیلی کام انڈسٹری کو اربوں کا نقصان

ٹیلی کام انڈسٹری سے منسلک حکام نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تین دن میں ٹیلی کام سیکٹر کو دو ارب 46 کروڑ کا نقصان ہوا ہے۔

ٹیلی کام انڈسٹری کا کہنا ہے کہ حکومت کو موبائل براڈ بینڈ خدمات سے روانہ ساڑھے 28 کروڑ کا ٹیکس ریونیو ملتا ہے۔ تین دن میں حکومت کو تقریبا 86 کروڑ کے ٹیکس ریونیو میں نقصان ہوا۔

یہ بھی پڑھیے

آئندہ مالی سال کا بجٹ 9 جون کو پیش کیا جائے گا، اسحاق ڈار

ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں 5.28کروڑ ڈالر کی کمی

ٹیلی کام انڈسٹری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز فیسبک ٹویٹر یوٹیوب سمیت دیگر پلیٹ فارمز تک رسائی نہیں رہی ، سوشل میڈیا ایپس ، آن لاین بزنس ، آن لائن تعلیم ، آن لاین ٹرانسپورٹ کریم اوبر ان ڈرائیو فوڈ ڈیلوری سروس متاثر ہوئی ہے۔

ٹیلی کام انڈسٹری کے مطابق انٹرنیٹ کی بندش سے جڑواں شہروں میں ڈیڑھ لاکھ رجسٹرڈ آن لائن رائیڈرز متاثر ہوئے ہیں۔ بارہ ہزار ہوٹلز کی آن لائن ڈیلیوری متاثر ہو چکی ہے ، روالپنڈی اسلام آباد میں نوے ہزار پوائٹس آف سیل ہیں جو آن لائن ادائیگیاں کرتے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کی بندش سے تین کروڑ کے قریب فری لانسرز کا کاروبار متاثر ہوگیا۔

آل پاکستان سافٹ وئیر ایکسپورٹ ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تین دن میں آیی ٹی سیکٹر کو دس ارب کا نقصان ہوچکا ہے۔ آئی ٹی سیکٹر کا ایک دن کا کاروبار بارہ ملین ڈالر ہے۔

جی ایس ایم اے کا مطالبہ

موبائل انڈسٹری کی عالمی تنظیم جی ایس ایم اے نے ملک میں براڈ بینڈ انٹرنیٹ کی فوری بحالی کا مطالبہ کردیا ہے۔

جی ایس ایم اے نے وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کام سید امین الحق کو ہنگامی مراسلہ ارسال کیا ہے۔

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ انٹرنیٹ کی طویل بندش شہریوں کی صحت ، تعلیم سماجی و معاشی بہبود کے لیے مسائل کا سبب بن رہی ہے۔ ٹیلی کام شعبہ کے کاروبار اور سرمایہ کاری پر گہری ضرب پڑی ہے۔

مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ انٹرنیٹ کی بندش سے پاکستان کے لیے سرمایہ کاری اور معاشی انتظام کے اقدامات کی ساکھ بھی متاثر ہورہی ہے۔ عالمی تنظیم ڈیجیٹل خدمات کی معطلی کے احکامات کی حوصلہ شکنی کرتی ہے

متعلقہ تحاریر