اے ٹی سی نے تین مقدمات میں عمران خان کی عبوری ضمانت منظور کرلی

انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے چیئرمین تحریک انصاف کی عبوری ضمانت 2 جون 2023 تک منظور کی ہے جبکہ پولیس کو گرفتاری سے روکنے کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔

اینٹی ٹیررسٹ کورٹ (اے ٹی سی) نے سابق وزیراعظم اور چیئرمین تحریک انصاف کی تین مقدمات دو جون تک عبوری ضمانت منظور کرلی ہے، جبکہ عدالت نے ضلِ شاہ قتل کیس میں عمران خان کی عبوری ضمانت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان زمان پارک لاہور سے روانہ ہوئے اور اے ٹی سی کورٹ میں پیش ہوئے۔ عمران خان نے عدالت سے عبوری ضمانت منظور کرنے کی استدعا کی تھی۔

لاہور کی انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج اعجاز احمد بٹر نے جناح ہاؤس پر حملے اور جلاؤ گھیراؤ کے تین مقدمات میں عمران خان کی عبوری ضمانت منظور کرلی ہے۔

یہ بھی پڑھیے 

پنجاب کی نگراں حکومت نے زمان پارک میں کریک ڈاؤن کا عندیہ دے دیا

لاہور ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی 70 کارکنان کی نظربندی کو کالعدم قرار دے دیا

انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے پولیس کو حکام جاری کرتے ہوئے عمران خان کو 2 جون تک گرفتار نہ کرنے سے روک دیا ہے۔ عدالت نے چیئرمین تحریک انصاف کو مقدمات میں شامل تفتیش ہونے کے احکامات بھی جاری کردیئے ہیں۔

عدالت نے تینوں مقدمات میں چیئرمین تحریک انصاف کو ایک ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا بھی حکم دیا۔

عدالت نے عمران خان کو حکم دیا کہ آپ نے تفتیش میں رکاوٹ نہیں ڈالنی۔ جس پر پی ٹی آئی کے سربراہ کا کہنا تھا عدالت اس حوالے سے بالکل بےفکر ہو جائے تفتیشی ٹیم کے  ساتھ مکمل تعاون کیا جائے۔

انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں دوران سماعت عمران خان کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 9 مئی کے واقعات جب ہوئے تو میرے موکل اس وقت گرفتار تھے اور اسلام آباد میں تھے۔

وکیل کا کہنا تھا کہ 9 مئی کے واقعات کی میرے موکل نے شدید الفاظ میں مذمت کی تھی۔ اور اب میرے موکل شامل تفتیش ہوکر اپنی بےگناہی ثابت کرنا چاہتے ہیں ، لہٰذا اسی  بنیاد پر عمران خان کی عبوری ضمانت منظور کی جائے۔

بعدازاں عدالت نے تینوں مقدمات میں عمران خان کی عبوری ضمانت 2 جون 2023 تک منظور کرتے ہوئے پولیس کو حکم دیا ہے کہ وہ ان مقدمات میں عمران خان کو گرفتار نہ کریں۔

متعلقہ تحاریر