رانا ثناء اللہ کی پی ٹی آئی خواتین سے متعلق آڈیو کی کہانی، سپریم کورٹ نوٹس لے

سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سی خواتین تھیں جن کے ساتھ زیادتی ہونے جارہی تھی ، کیونکہ اُس آڈیو میں اِس بات کا بھی تو ذکر ہو گا کہ کون سے خواتین کو پلانٹ کیا گیا ہے؟۔

ہفتے اور اتوار کی درمیان شب وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کی کچھ خواتین کی ریپ اسٹوری پلانٹ کی گئی جس کی آڈیو انٹیلی جنسیز نے انٹرسیپٹ کی ہے۔ رانا ثناء کی پریس کانفرنس پر سوال اٹھاتے ہوئے تجزیہ کاروں اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جہاں اتنی آڈیو لیکس میڈیا پر شیئر کی گئی وہاں یہ آڈیو بھی شیئر کردی جاتی تو کیا فرق پڑتا تھا، تاہم انہوں نے وزیر داخلہ کی متنازعہ پریس کانفرنس پر سپریم کورٹ آف پاکستان نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے ہفتے اور اتوار کی شب چونکا دینے والا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ایک ٹیلی فونک گفتگو کو پکڑا ہے ، جس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے حکومت کو بین الاقوامی سطح پر بدنام کرنے کی مبینہ سازش کا انکشاف ہوا ہے۔

وزیر کے مطابق پکڑی گئی بات چیت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی ایک پولیس ٹیم کسی گھر پر چھاپے کے دوران ایک خاتون سے ساتھ زیادتی کرے گی اور اس کا الزام ریاستی اداروں پر لگایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے 

میڈیا ٹاک اس لیے نہیں کررہا کہ پارٹی چھوڑ کر جارہا ہوں، عمران خان کی حسِ مزاح قائم

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے الزام لگایا کہ انٹرسیپٹڈ کال میں دو طرح کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔

ان میں سے ایک کا تعلق چھاپے کے طریقہ کار سے تھا اور دوسرا پی ٹی آئی کارکن کے گھر پر زیادتی کا ’مرحلہ‘تھا، انہوں نے مزید کہا کہ چھاپے کے دوران فائرنگ بھی منصوبے کا حصہ تھی۔

انہوں نے بتایا کہ ’سازش‘ کو آج ہی عملی جامہ پہنایا جانا تھا جس کی وجہ سے حکومت نے اسے تیزی سے بے نقاب کرنے کا فیصلہ کیا۔

وزیر نے زور دے کر کہا کہ اگر مبینہ سازش کو عملی جامہ پہنایا گیا تو پی ٹی آئی حکومت پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام لگاتے ہوئے اسے بدنام کرنے کے لیے بین الاقوامی میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کرے گی۔

تبصرہ

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کی پریس کانفرنس پر تبصرہ کرتے ہوئے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جہاں حکومت پہلے بیس پچیس آڈیو لیکس کو میڈیا کے ساتھ شیئر کرچکی ہے وہاں یہ آڈیو بھی شیئر کردی جاتی تو کیا فرق پڑتا۔ میڈیا کے ساتھ آڈیو شیئر کرنے سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجاتا۔

انہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر کوئی ایسی آڈیو ہے تو کیا حکومت اس کو میڈیا کے ساتھ شیئر کرے گی؟۔ وزیر داخلہ کےبیان کو 24 گھنٹے سے اوپر ہو گئے ہیں اگر وہ آڈیو ہے تو کدھر ہے؟۔

سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کے کارکنان نے اگر جعلی پولیس کا کردار ادا کرنا بقول رانا ثناء اللہ کے ، انہوں نے وہ وردیاں پنجاب پولیس کی چوری کررکھی ہیں یا اسلام آباد پولیس کی؟۔

سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سی خواتین تھیں جن کے ساتھ زیادتی ہونے جارہی تھی ، کیونکہ اُس آڈیو میں اِس بات کا بھی تو ذکر ہو گا کہ کون سے خواتین کو پلانٹ کیا گیا ہے؟۔

اسلام آباد پولیس کا بیان

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کی پریس کانفرنس کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے اسلام آباد پولیس نے وضاحتی اور اپنی صفائی میں بیان جاری کیا کہ ”  تمام خواتین قابل احترام ہیں۔ لیکن کچھ کو اس مہم میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔”

نگراں وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کا بیان

رانا ثناء اللہ کی پریس کانفرنس پر وضاحتی بیان دیتے ہوئے نگراں وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس تو کل 11 خواتین ہیں ، جو انتہائی قابل احترام ہیں ، اس لیے ایسا کچھ نہیں ہونے والا۔

آئی جی پنجاب اور نگراں وزیر اطلاعات پنجاب کا بیان

آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نےبیان دیا ہے کہ ہمارے پاس صرف 7 خواتین ہیں جو انتہائی ہائی پروفائل ہیں ، اس طرح نگراں وزیراطلاعات عامر میر نے بیان دیا کہ ہمارے پاس تو 7 خواتین ہیں، اس لیے ایسا کچھ نہیں ہونے والا ہے۔

تبصرہ

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نگراں پنجاب محسن نقوی کہتے ہیں کہ 11 خواتین جبکہ آئی جی اور وزیر اطلاعات کہہ رہے ہیں کہ 7 خواتین ہیں۔ بھائی بیان جاری کرنے سے پہلے مشاورت ہی کرلیا کریں۔

عمران خان کا بیان

اس ساری صورتحال اور وفاقی وزیر داخلہ کی پریس کانفرنس کا باریک بینی سے مشاہدہ کرتے ہوئے سابق وزیراعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ تحاریر