بھارتی پارلیمنٹ کی نئی عمارت کے افتتاح پر خواتین ریسلرز اور کسانوں پر تشدد

تکبر اور تشہیر کے خواہشمند مودی کی جانب سے بھارت کی پہلی خاتون صدر کو پارلیمنٹ کی عمارت کے افتتاح سے محروم رکھنے پر اپوزیشن نے تقریب کا بائیکاٹ کردیا، پولیس نے ریسلنگ فیڈریشن کے صدر کی گرفتاری کا مطالبہ کرنے والے متعدد ریسلرز کو گرفتار کرلیا۔

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں وزیراعظم نریندر مودی نے اپوزیشن کے بائیکاٹ کے باوجود بھارتی پارلیمنٹ کی نئی عمارت کا افتتاح کردیا ۔

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کی دعویدار ریاست میں افتتاح کے روز  پارلیمنٹ کی نئی عمارت  سے کچھ  فاصلے  پر پولیس نے باکسنگ فیڈریشن کے صدر کیخلاف سراپا احتجاج  خواتین ریسلرز اور مطالبات کے حق میں مظاہرہ کرنے والے  کسانوں پر لاٹھیاں  برسادیں۔

یہ بھی پڑھیے

مودی سرکار نے اپنا متعارف کردہ 2 ہزار کا کرنسی نوٹ بند کرنے کا اعلان کردیا

بھارت دہشتگردی سے پاک ماحول میں پاکستان سے معمول کےتعلقات چاہتا ہے، مودی

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اتوار کو بھارتی  پارلیمنٹ کی نئی عمارت کا افتتاح وزیر اعظم نریندر مودی نے کیا جس کا کانگریس سمیت اپوزیشن کی 19 جماعتوں نے بائیکاٹ کیا تھا۔

اپوزیشن جماعتوں کا موقف تھا کہ پارلیمنٹ کی عمارت کا افتتاح صدر مملکت کو کرنا چاہیے۔کانگریس کا کہنا ہے کہ ایک آدمی کے تکبر اور ذاتی تشہیر کی خواہش نے ملک کی پہلی خاتون صدر دروپدی مرمو سے پارلیمنٹ کا افتتاح کرنے کا شرف چھین لیا۔

دریں اثنا بھارتی پارلیمنٹ کے افتتاح کے عین موقع پر دارالحکومت نئی دہلی میں پولیس نے ریسلنگ فیڈریشن کے صدر کیخلاف سراپا احتجاج خواتین ریسلرز اور مطالبات کے حق میں مظاہرہ کرنے والے کسانوں کو تشدد کا نشانہ بناڈالا۔

بھارتی پولیس نے خواتین ریسلرز سے ہراسانی کے الزامات  کا سامنا کرنے والے ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا کے صدر کی گرفتاری کا مطالبہ کرنے  پر اولمپک میڈلسٹ بجرنگ پونیا اور سکشی ملک سمیت  کئی مشہور بھارتی ریسلرز کو گرفتار کرلیا۔

سینئر  پولیس  افسر نے میڈیا کوبتایا کہ  مظاہرین  نے تمام ہدایات نظرانداز کرتے ہوئےرکاوٹیں توڑ دی تھیں، انہیں قانون توڑنے پر گرفتار کیاگیا ہے۔

متعلقہ تحاریر