لاہور ہائی کورٹ نے نواز شریف کو پارٹی عہدے پر بحالی کی درخواست مسترد کردی

جسٹس علی  باقر نجفی نے رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ کے اعتراض کو برقرار رکھتے ہوئے درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے دیا۔

لاہور ہائی کورٹ میں نواز شریف کو پارٹی عہدے پر بحال کرنے کی اعتراضی درخواست سماعت ہوئی ہے۔ عدالت رجسٹرار آفس کا اعتراض برقرار رکھا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی پارٹی کی صدارت پر بحالی کی اعتراضی درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے رجسٹرار آفس کے اعتراض کو برقرار رکھتے ہوئے درخواست ناقابل سماعت قرار دے دی۔

یہ بھی پڑھیے 

سابق آئی جی پولیس میجر ریٹائرڈ ضیاءالحسن کا بیٹا کورکمانڈر ہاؤس پر حملے کے الزام میں گرفتار

شہری کی رہائی کے بعد دوبارہ گرفتاری: لاہور ہائی کورٹ نے آئی جی پنجاب سے وضاحت طلب کرلی

لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس علی باقر نجفی نے مقامی وکیل آفاق احمد کی  درخواست پر سماعت کی۔ رجسٹرار ہائی کورٹ نے درخواست پر اعتراض عائد کردیا۔

دوران سماعت وکیل آفاق احمد کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا گیا کہ نواز شریف کو غیرقانونی  طور پر وزارت عظمیٰ کے عہدے کے لیے نااہل قرار دیا تھا۔ بعدازاں سپریم کورٹ نے میاں نواز شریف کو پارٹی عہدے کے لیے بھی نااہل قرار دیا گیا۔

وکیل آفاق احمد کا کہنا تھا کہ دوسری جانب جب الیکشن کمیشن نے عمران خان کو نااہل قرار دیا تھا تو اس کے باوجود عمران خان کو پارٹی عہدے سے نہیں ہٹایا گیا۔

وکیل آفاق احمد کا کہنا تھا کہ یہ فیصلے امتیازی سلوک پر دلالت کرتے ہیں اس لیے نواز شریف کو فوری طور پر پارٹی کی صدارت پر بحال کیا جائے۔

رجسٹرار ہائی کورٹ کی جانب سے وکیل آفاق احمد کی درخواست پر اعتراض کرتے ہوئے لکھا تھا کہ نواز شریف کو سپریم کورٹ نے پارٹی عہدے کے لیے نااہل قرار دیا تھا اس لیے ان کی بحالی کی درخواست بھی سپریم کورٹ ہی سن سکتی ہے۔

جسٹس علی باقر نجفی نے دلائل کی بنا پر رجسٹرار ہائی کورٹ کے اعتراج کو برقرار رکھتے ہوئے درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔

متعلقہ تحاریر