حکومت کا ڈالر ریٹ 290 روپے رکھ کر بجٹ بنانے کا فیصلہ

نجی شعبے نے آئندہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں  ڈالر کا ایکسچینج ریٹ 320 روپے جبکہ دوسری ششماہی میں 350 روپے  سے زائد تک پہنچنے کی پیشگوئی کی ہے۔

آیندہ مالی سال کے بجٹ میں وفاقی حکومت ڈالر کا ایکسچینج ریٹ 290 جبکہ نجی شعبہ اور تاجر برادری ڈالر ریٹ 350 روپے سے زائد رکھنے کہہ رہی ہے۔

ملک بھر کی لارج اسکیل مینوفیکچرنگ انڈسٹریز کے مالکان ڈالر کے آئے روز کے اتار چڑھاؤ پر سر پکڑے بیٹھے ہیں اور آئندہ مالی سال کے بجٹ کی پہلی ششماہی میں جولائی تا دسمبر 2023 میں ڈالر کا ایکس چینج ریٹ 320 اور دوسری ششماہی میں یکم جنوری تا 30 جون 2024 تک ڈالر کا ایکسچینج ریٹ 350 روپے سے زائد تک پہنچنے کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے 

بحران  مزید بگڑا تو پاکستان میں شدید غذائی عدم تحفظ بڑھنے کا خدشہ ہے، اقوام متحدہ

بجٹ میں تعمیراتی شعبے کے لیے بڑے ریلیف کا امکان، ٹیکسز 30 سے 15 فیصد کرنے کی تجویز

ملک بھر کے نجی شعبے کا شکوہ ہے کہ رواں مالی سال کے بجٹ کے موقع پر جولائی 2022 میں ڈالر کا ایکسچینج ریٹ 190 اور پیٹرول کا ریٹ 180 روپے فی لٹر کے حساب سے بنایا تھا، جبکہ پیٹرول کے ریٹ 282 روپے فی لٹر تک پہنچا تھا جبکہ ڈالر کا ایکسچینج ریٹ بھی 285 روپے سے زائد کا ہے۔

نجی شعبے کا کہنا ہے کہ پیٹرول اور ڈالر کے ایکسچینج ریٹ کے توقع سے زیادہ اضافے نے صنعتی شعبے کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ صنعتی شعبہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بجلی اور گیس کے ریٹ بڑھنے کے خدشات بھی کیے ہوئے ہے۔

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سرکاری وزارتیں بھی ڈالر کا ایکسچینج ریٹ 290 ڈالر پر بنارہی ہیں جبکہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار دعویٰ کر رہے ہیں کہ ڈالر کا ایکسچینج ریٹ 244 روپے سے زیادہ نہیں ہے۔

متعلقہ تحاریر