ڈپٹی ڈائریکٹر کوئٹہ کاسی ای او ڈریپ پر بے نامی ادویہ ساز کمپنی چلانے کا الزام
ڈاکٹر علیم اختر کا سیکریٹری صحت کو ارسال کردہ خط میں سی ای او عاصم رؤٖف خلاف ضابطہ چھٹیاں لیکر 5 سال کیلیے امریکا جانے کا بھی الزام، افسر فضول شکایات درج کرنے کا عادی تھا ،اتھارٹی نے اس کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے،سی ای او ڈریپ: کوئی الزام ثابت نہیں ہوسکا،ترجمان این ایچ ایس

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کے ڈپٹی ڈائریکٹرکوئٹہ نے سیکرٹری صحت کو خط لکھ کر ڈریپ کے سی ای او عاصم رؤف پر نامی ادویہ ساز کمپنی چلانے کا الزام عائد کردیا۔
تاہم ڈریپ کے سی ای او عاصم رؤف نے کہا کہ افسر فضول شکایات درج کرنے کا عادی تھا اور اتھارٹی نے اس کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز (این ایچ ایس) کے ترجمان ساجد شاہ نے کہا کہ ماضی میں ڈریپ کے زیادہ تر سی ای اوز پر ایسے الزامات لگائے گئے لیکن ان میں سے کوئی بھی ثابت نہیں ہو سکا۔
یہ بھی پڑھیے
حکومت نے ادویات کی قیمتوں میں 14 فیصد سے 20 فیصد تک اضافہ کر دیا
معاشی بحران اور مہنگائی نے دوائیں عوام کی پہنچ سے دور کردیں
انگریزی روزنامہ ڈان کو دستیاب خط میں کوئٹہ میں ڈریپ کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد علیم اختر نے دعویٰ کیا کہ سی ای او نے سال 2002 میں بی پی ایس -18 میں ڈپٹی ڈرگ کنٹرولر کے طور پر اپنی تقرری کے بعد سے کئی بے ضابطگیاں کی ہیں۔
ڈاکٹر علیم اختر نے وزیراعظم اور متعدد ریاستی اداروں کو ارسال کردہ خط میں دعویٰ کیا ہے کہ قواعد کے مطابق سرکاری افسران پانچ سال کی سروس مکمل کیے بغیر پڑھائی کی چھٹی حاصل نہیں کر سکتے، لیکن عاصم رؤف ان کے صرف دو سال بعد 2004 میں سول سرونٹ اسٹڈی رولز1996 کی خلاف ورزی کرتے ہوئےچھٹیاں لیکر پی ایچ ڈی کرنے امریکا چلے گئے۔
خط میں دعویٰ کیا گیا کہ سی ای او 2009 میں پانچ سال تک تمام مراعات حاصل کرنے کے باوجود پی ایچ ڈی کی ڈگری مکمل کیے بغیر واپس آئے۔
ڈریپ افسر نے الزام لگایا کہ سی ای اوس سندر انڈسٹریل اسٹیٹ لاہور میں ایم ایس زیٹا فارماسیوٹیکل نامی کمپنی بھی چلارہے تھے جوکہ ڈریپ ایکٹ 2012 کے سیکشن 18 کے مطابق مفادات کے ٹکراؤ کو جنم دیتاہے۔
خط کے ساتھ منسلک دستاویزات میں دعویٰ کیا گیا کہ سی ای او ڈریپ عاصم رؤف نے 16 اکتوبر 2010 سے فارماسیوٹیکل کمپنی قائم کی اور اس کی ملکیت (بے نامی لین دین) سب سے پہلے اپنے بھائی عامر ولی رؤف کے نام کی اورپھر 3 ستمبر 2018 کو کمپنی کی ملکیت اپنے سسر چوہدری عتیق قمر کو منتقل کردی۔
ڈریپ آفیسر نے میسرز زیٹا فارماسیوٹیکلز لاہور کے معاہدہ شراکت داری کی نقل منسلک کی ہے جس میں ڈیتھ کلاز شامل کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ چوہدری قمر کی موت کی صورت میں جائیداد عاصم رؤف کے نام منتقل کر دی جائے گی۔ افسر نے دعویٰ کیا کہ یہ بے نامی جائیداد کا ثبوت ہے۔
خط میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ کمپنی میں زاہد مسعود ناصر نامی ایک اور پارٹنر بھی ہے لیکن معاہدے میں ایک اور ڈیتھ کلاز شامل کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ پہلے پارٹنر (زاہد مسعود ناصر) کی موت کی صورت میں جائیداد دوسرے پارٹنر کے نام منتقل کی جائے گی جو سی ای او چیف کے سسر تھے۔
خط میں سیکریٹری صحت سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اس معاملے کی انکوائری شروع کریں تاکہ ڈریپ میں بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کے امکانات ختم ہو سکیں۔
رابطہ کرنے پر ڈریپ کے سربراہ نے ڈان کو بتایا کہ شکایت کنندہ ایسی درخواستیں دائر کرنے کا عادی تھا کیونکہ وہ کوئٹہ یونیورسٹی میں ملازمت کے دوران بھی انتظامیہ کے خلاف ایسی ہی درخواستیں دائر کرتا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسی شخص نے ڈریپ کے سابق سربراہ ڈاکٹر اسلم افغانی کے خلاف بھی درخواست دائر کی تھی۔انہوں نے ڈاکٹر عبید سمیت ڈریپ کے کچھ دیگر افسران کے خلاف بھی درخواستیں دائر کی ہیں۔ ہم نے ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ وہ بغیر کسی ثبوت کے الزامات لگاتے ہیں۔ڈاکٹر رؤف سے جب الزامات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ سب بے بنیاد ہیں۔
وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز (این ایچ ایس) کے ترجمان ساجد شاہ نے کہا کہ ماضی میں ڈریپ کے بیشتر سی ای اوز پر ایسے الزامات لگائے گئے لیکن ان میں سے کوئی بھی ثابت نہیں ہوسکا۔
انہوں نے مزید کہاکہ”جب بھی ہمیں اس طرح کے خطوط اور درخواستیں موصول ہوتی ہیں ہم درخواست دہندہ سے اپنے الزامات کو ثابت کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔ اس معاملے میں بھی اسی طرز عمل کی پیروی کی جائے گی۔ تاہم، مجھے یقین ہے کہ ڈریپ کے کچھ اندرونی اور بیرونی عناصر سی ای اوز پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وزارت شفافیت پر یقین رکھتی ہے اور اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ ڈریپ میں قواعد کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوگی“۔









