معاشی بحران: اسٹاک مارکیٹ کے بروکرز بھی اڑنے کیلیے پر تولنے لگے

رواں ہفتے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے 8 بروکرز نے لائسنس منسوخ کی درخواست جمع کرادی، تجزیہ کار اسد ناصر

پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے بعد سر اٹھانے والے  معاشی بحران نے پاکستان اسٹاک مارکیٹ کا بھی بھٹہ بٹھا  دیا ہے۔

مسلسل مندی اور اور ڈوبتےسرمائے کے پیش نظر 8 اسٹاک بروکرز نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے لائسنس کی منسوخی کیلیے  درخواست جمع کرادی۔

یہ بھی پڑھیے

کھانے پینے کی اشیاء کا بحران سر اٹھانے لگا؛ امپوٹرزکا درآمدات بند کرنے کا اعلان

ایف ایم یو میں ڈیپوٹیشن پر تعینات افسر کی تنخواہ 52 لاکھ روپے مقرر

اسٹاک ٹریڈر اور تکنیکی تجزیہ کار اسد ناصر نے اپنے ٹوئٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ”پاکستان میں اسٹاک ٹریڈنگ انڈسٹری کو بتدریج زوال کا سامنا ہے جس کے نتیجے میں رواں ہفتے 8 اسٹاک بروکرز نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اپنے لائسنس کی منسوخی کیلیے درخواست دیدی ہے“۔

ایک صارف نے اسد ناصر  کے ٹوئٹ پر تبصرے میں لکھاکہ”بروکرز کو بھی اس صورتحال کا ذمے دار قراردیا جارہا ہے،جنہوں نے اپنے صارفین کی محنت کی کمائی کو کمیشن کیلیے  کم منافع یا قیاس آرائیوں  پر مشتمل اسٹاک پر لگادیا ،چند بروکرز نے ہیرا پھیری کے ذریعے  مارکیٹ کی ساکھ کو خراب کیا ہے“۔

متعلقہ تحاریر