پی ٹی آئی سربراہ عمران خان کو 3 مقدمات میں حفاظتی ضمانت مل گئی
ایک روز قبل لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سابق وزیراعظم اور پارٹی کے چھ دیگر رہنماؤں کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو بدھ کے روز 9 مئی کو توڑ پھوڑ اور کوئٹہ میں سپریم کورٹ کے سینئر وکیل عبدالرزاق شر کے قتل سے متعلق تین مقدمات میں حفاظتی ضمانت مل گئی ہے۔
اس سے ایک روز قبل لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سابق وزیراعظم اور پارٹی کے چھ دیگر رہنماؤں کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
لاہور ہائیکورٹ نے فوج کو 10 لاکھ ایکڑ اراضی لیز غیر قانونی قرار دے دی
ایف آئی اے نے منی لانڈرنگ کیس میں پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا
عمران خان اور دیگر رہنماؤں کے خلاف مقدمات ماڈل ٹاؤن اور نصیر آباد تھانوں میں 9 مئی کے پرتشدد مظاہروں کے بعد درج کیے گئے تھے۔
درج کی گئی ایف آئی آرز کے مطابق 9 مئی کے فسادات کے دوران کلمہ چوک پر ایک کنٹینر کو نذر آتش کرنے اور ماڈل ٹاؤن میں مسلم لیگ (ن) کے دفتر کو آگ لگانے سے متعلق تھیں۔
مقدمات میں نامزد دیگر ملزمان میں سابق وفاقی وزرا حماد اظہر اور مراد سعید، جمشید اقبال چیمہ اور ان کی اہلیہ مسرت جمشید چیمہ، سابق صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال اور عمران خان کے بھانجے حسان خان نیازی شامل ہیں۔
اس سے قبل آج، پی ٹی آئی کے سربراہ لاہور اے ٹی سی کے سامنے پیش ہوئے جہاں انہیں 100،000 روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض دونوں مقدمات میں 7 جولائی تک حفاظتی ضمانت دی گئی۔
عدالت نے پولیس کو عمران کی گرفتاری سے بھی روک دیا ہے۔
قتل کیس میں ضمانت
دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی نے ایڈووکیٹ عبدالرزاق شر قتل کیس میں عمران کی درخواست ضمانت منظور کر لی ہے۔
سپریم کورٹ کے وکیل عبدالرزاق شر کو 6 جون کو ایئرپورٹ روڈ پر کوئٹہ کے عالمو چوک کے قریب نامعلوم حملہ آوروں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ وہ بلوچستان ہائی کورٹ جا رہے تھے کہ ان کی گاڑی پر خودکار ہتھیاروں سے لیس نامعلوم افراد نے حملہ کیا۔ وکیل کو 15 گولیاں لگیں تھیں اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔
6 جون کو کوئٹہ کے شہید جمیل پولیس اسٹیشن میں عبدالرزاق شر کے بیٹے ایڈووکیٹ سراج احمد کی مدعیت میں عمران خان کے خلاف قتل کی ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔









