عام انتخابات سے قبل چیئرمین پی سی بی کے انتخاب میں پی پی اورن لیگ سخت مقابلے کی توقع

پی سی بی کے الیکشن کمشنر اور قائمقام چیئرمین احمد شہزاد فاروق نے مینجمنٹ کمیٹی کے نامزد کردہ ریجنز اور 2  ڈپارٹمنس کو تبدیل کرکے نیا بورڈ آف گورنرز تشکیل دے دیا، معاملہ قانون جنگ کی نذر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگا،

عام انتخابات سےقبل چیئرمین پی سی بی کے الیکشن میں اتحادی حکمراں جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی  کے درمیان گھمسان کا رن پڑنے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی)  کے الیکشن کمشنر اور قائم مقام چیئرمین احمد شہزاد فاروق رانا نے مینجمنٹ کمیٹی کے نامزد کردہ ریجنز اور 2  ڈپارٹمنس کو تبدیل کرکے نیا بورڈ آف گورنرز تشکیل دے دیا جس کے بعد چیئرمین پی سی بی کے انتخاب کا معاملہ پیچیدہ اور قانونی جنگ کی نذر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

وزیر اعظم نے ذکا اشرف اور مصطفیٰ رمدے کو پی سی بی بورڈ آف گورنرز میں نامزد کردیا

ایک زرداری سب پہ بھاری، نجم سیٹھی چیئرمین پی سی بی کی دوڑ سے دستبردار

پی سی بی الیکشن کمشنر کی جانب سے جاری کردہ نئے بورڈ آف گورنرز (بی او جیز) میں لاڑکانہ، ڈیرہ مراد جمالی، بہاولپور اور حیدرآباد ریجنز کے صدور شامل کیے گئے ہیں جبکہ ڈپارٹمنٹس میں واپڈا اور کے آر ایل کی جگہ اسٹیٹ بینک اور نیشنل بینک کو شامل کیا گیا ہے جبکہ سوئی ناردرن اور سوئی سدرن کو بی او جی میں برقرار رکھا گیا ہے۔

پیٹرن کے نمائندوں میں ذکا اشرف اور مصطفیٰ رمدے کا نام بورڈ آف گورنرز  کی فہرست میں شامل ہے۔اس سے پہلے سابق چیئرمین مینجمنٹ کمیٹی نجم سیٹھی نے 20 جون کو چارج چھوڑنے سے پہلے نئے بورڈ آف گورنرز کے نمائندوں کا اعلان کیا تھا جس میں کراچی، لاہور، پشاور اور راولپنڈی ریجنز کو بورڈ آف گورنرز کا حصہ بنایا گیا تھا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ  کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمشنر احمد فاروق شہزاد رانا نے 2014 کے آئین کے مطابق مینجمنٹ کمیٹی کی مدت مکمل ہونے پر گورننگ بورڈ تشکیل دیا ہے۔ الیکشن کمشنر نے نوٹیفکیشن وزارت بین الصوبائی رابطہ کمیٹی کے نوٹیفکیشن کے مطابق جاری کیا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق وزارت کی جانب سے 20 جون کو مینجمنٹ کمیٹی کے تحلیل ہونے کا نوٹیفکیشن ملا۔نئے بورڈ آف گورنرز کی تعیناتی کے بعد نئے چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے انتخابات 27 جون کو ہوں گے۔

واضح رہے کہ چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ کیلیے 2 امیدوار وں میں سخت مقابلے کی توقع ہے  جن میں پیپلزپارٹی کےحمایت یافتہ ذکااشرف اور مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ مصطفیٰ رمدے شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو دباؤ ڈال کر نجم سیٹھی کو چیئرمین پی سی بی کی دوڑسے تو باہر کرانے میں کامیاب ہوگئے ہیں لیکن ذکا اشرف کو چیئرمین پی سی بی بنانا ان کے لیے تر نوالہ ثابت  نہیں ہوگا۔اپنے ہر دلعزیز نجم سیٹھی کی قربانی دینے والی  لیگی قیادت  مصطفیٰ رمدے کو  کامیاب کرانے کیلیے ہر حد تک جائے گی۔

متعلقہ تحاریر