جسٹس مظاہر نقوی نے اپنے خلاف ’غیر سنجیدہ‘ شکایات پر چیف جسٹس کو خط لکھ دیا
سپریم کورٹ کے سینئر جج نے شکایات کو عدلیہ مخالف مہم کا حصہ قرار دے دیا۔
جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے چیف جسٹس آف پاکستان (سی جے پی) عمر عطا بندیال کو خط لکھا ہے جس میں انہوں نے اپنے خلاف شکایات کو ’غیر سنجیدہ‘ اور ’عدلیہ مخالف مہم‘ کا حصہ قرار دیا ہے۔
یہ خط اس وقت آیا ہے جب جسٹس مظاہر علی نقوی پر ان کی جائیداد کے ریکارڈ اور انکم ٹیکس ریٹرن کے سلسلے میں غلط کام کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔
مبینہ طور پر یہ الزامات ایک ساتھی جج کی طرف سے لگائے گئے تھے، جنہوں نے پھر ان ان الزامات کو سپریم جوڈیشل کونسل (SJC) کے سربراہ کے پاس جمع کرادیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
لاہور ہائیکورٹ نے شہریار آفریدی کی نظر بندی کو غیر قانونی قرار دے دیا
توشہ خانہ فوجداری کیس: عمران خان نے دفاع کا حق معطل کرنے کا فیصلہ چیلنج کردیا
قواعد کے مطابق ججز کے خلاف شکایات ایس جے سی کے سربراہ کو جمع کرائی جاتی ہیں اور یہ معاملہ 29 مئی کو جسٹس سردار طارق مسعود کو بھجوایا گیا تھا۔
جسٹس مظاہر علی نقوی نے اس رویے پر "حیرت” کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہےکہ سپریم جوڈیشل کونسل کے کسی دوسرے رکن نے کبھی اس طرح کا کام نہیں کیا۔
مظاہر علی نقوی نے اس جج پر بھی الزام لگایا ہے جنہوں نے ان کے خلاف جلد کارروائی شروع کرنے کی درخواست کی ہے۔
سپریم کورٹ کے جج نے نوٹ کیا کہ حاضر سروس ججوں کے خلاف متعدد شکایات ایس جے سی کے پاس زیر التوا ہیں۔
جسٹس مظاہر علی نقوی نے چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں پراعتماد انداز میں کہا ہے کہ مجھے پوری امید ہے کہ تحقیقات کے بعد میرے خلاف الزامات کو خارج کردیا جائے گا۔
انہوں نے خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ وہ عدلیہ کی خدمت کے لیے "پرعزم” ہیں اور وہ "دیانتداری اور ایمانداری کے ساتھ فرائض کی انجام دہی جاری رکھیں گے”۔









