توشہ خانہ کیس: عدالت کا عمران خان کے دفاع کے حق سے متعلق فیصلہ محفوظ

یاد رہے کہ گزشتہ روز ٹرائل کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کے تمام گواہوں کو مسترد کر دیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے جمعرات کے روز چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے دفاع کے حق سے مرحوم کرنے خلاف دائر اپیل پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ ٹرائل کورٹ نے پی ٹی آئی سربراہ کے گواہوں کو کیس سے غیر متعلقہ قرار دیتے ہوئے کیس میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ دیا ہے۔

وکیل خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے اس بنیاد پر چیلنج کیا گیا تھا کہ گواہ ٹیکس کنسلٹنٹ اور اکاؤنٹنٹ تھے جنہیں معاملے کا علم تھا۔

یہ بھی پڑھیے 

لاہور ہائیکورٹ نے شہریار آفریدی کی نظر بندی کو غیر قانونی قرار دے دیا

رضوانہ تشدد کیس: سول جج کی اہلیہ صومیہ عاصم کو پھر عبوری ضمانت مل گئی

انہوں نے مزید کہا کہ ٹرائل کورٹ نے ایک ہی دن میں گواہوں کی جرحیں خارج کر دیں۔

چیف جسٹس اسلام آباد عامر فاروق نے دلائل سننے کے بعد کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔

عمران خان نے بدھ کے روز ٹرائل کورٹ کے حکم کو آئی ایچ سی میں چیلنج کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کی اپیل کی فوری سماعت کی جائے کیونکہ سیشن جج ہمایوں دلاور نے عندیہ دیا تھا کہ کیس کا فیصلہ جمعرات کو سنایا جائے گا۔

پی ٹی آئی سربراہ نے ٹرائل کورٹ میں ٹیکس کنسلٹنٹ محمد عثمان علی، سینئر منیجر قدیر احمد، آئی ٹی پی کے منیجر نوید فرید اور پارٹی رکن رؤف حسن کے نام بطور گواہ پیش کیے تھے۔

تاہم الیکشن کمیشن آف پاکستان کے وکیل امجد پرویز نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ گواہوں کا کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اس کے بعد عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ عمران خان کے دفاع کے حق کو ختم کیا جاتا ہے ، کیونکہ وہ اپنے گواہوں کو کیس سے موثر طریقے سے جوڑنے میں ناکام رہے تھے۔

جج ہمایوں دلاور نے فیصلہ دیا تھا کہ تمام گواہ ٹیکس کنسلٹنٹ یا اکاؤنٹنٹ تھے جب کہ عمران خان کے خلاف مقدمہ انکم ٹیکس آرڈیننس کے بجائے الیکشن ایکٹ کے تحت درج کیا گیا تھا۔

متعلقہ تحاریر