انسداد ہراسگی کی وفاقی محتسب خود ہراسگی کا شکار

کشمالہ طارق اور اے آر وائی کے درمیان معاملات ڈنک پر نوٹس بھجوانے پر بگڑے تھے۔

وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسگی کشمالہ طارق اور نجی ٹی وی چینل اے آر وائی کے درمیان معاملات سلجھ نہ سکے۔ چینل نے کشمالہ سے متعلق خبر پر ان کی ذاتی نوعیت کی تصویر نشر کی ہے۔

حکومت پاکستان نے خواتین کے حقوق کے تحفظ اور ہراسگی کے معاملات کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے جس خاتون کو مقرر کیا وہ خود ایک نیوز چینل کی جانب سے ہراسگی کا شکار ہوگئیں۔ کشمالہ طارق وفاقی محتسب انسداد ہراسگی ہیں لیکن ان کے ساتھ خود ہراسگی کا واقعہ پیش آگیا۔

ہمارے ملک میں اگر نیوز چینلز کسی سے دشمنی پر اتر آئیں تو معاشرتی اقدار کی پرواہ کیے بغیر حد سے آگے نکل جاتے ہیں۔ اے آر وائی نے بھی کچھ ایسا ہی کیا۔ کشمالہ طارق کی کرپشن کے حوالے سے خبر پر اے آر وائی نے ان کی ذاتی نوعیت کی تصویر ہیڈلائن میں لگادی۔

اس حوالے سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک صارف نے لکھا کہ وہ کشمالہ کے مداح تو نہیں لیکن خبر کو اس انداز سے نشر کرنا بھی درست نہیں تھا۔

کشمالہ طارق، حریم شاہ یا قندیل بلوچ کی طرح کوئی سوشل میڈیا اسٹار نہیں ہیں جن کی کوئی بھی ذاتی نوعیت کی تصویر کسی بھی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ سے نکال کر نشر کردی جائے۔

یہ بھی پڑھیے

کشمالہ طارق کی ڈنک پر تنقید کے بعد اے آر وائی کا جوابی حملہ

ہمارے ملک میں ایسے معاملات پر حقوق نسواں کی تنظیموں سے تعلق رکھنے والی خواتین آواز ضرور اٹھاتی ہیں۔ مگر، حیرت انگیز طور پر کشمالہ طارق کے معاملے میں کوئی ایک خاتون بھی اب تک ان کی حمایت میں سامنے نہیں آئی۔

اے آر وائی اور کشمالہ طارق کا تنازعہ

وفاقی محتسب اور چینل کے درمیان معاملات اس وقت بگڑے جب جنسی ہراسگی کے موضوع پر بننے والے ڈرامہ سیریل ڈنک پر چیئرمین پیمرا سمیت اے آر وائی کے سربراہ اور پروڈیوسر کو نوٹس بھجوائے گئے۔ نوٹس میں کہا گیا کہ ہمارے معاشرے میں جنسی ہراسگی پر بات کرنا مناسب نہیں سمجھا جاتا۔ کوئی خاتون کسی فرد کو بدنام کرنے کے لیے اپنی عزت داؤ پر لگاتے ہوئے جھوٹی شکایت کیوں درج کرائے گی؟

کشمالہ کے اس نوٹس کے بعد اے آر وائی کی جانب سے براہ راست تو کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا لیکن چینل نے خواجہ آصف کی جانب سے کشمالہ طارق کے اکاؤنٹ میں 12 کروڑ روپے منتقل کرنے کی خبر بریک کی۔

متعلقہ تحاریر