پاکستان میں کرونا وائرس کی تیسری لہر کا خدشہ

این سی او سی نے معمولات زندگی پہلے کی طرح بحال کرنے اور پابندیوں کو ختم کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

ماہرین صحت کرونا وائرس کی پابندیوں میں نرمی کو خطرے کی حیثیت سے دیکھ رہے ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ اگر احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کی گئیں تو پاکستان کو کرونا وائرس کی تیسری لہر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

دنیا بھر میں نظام زندگی کو بری طرح مفلوج کرنے والے کرونا وائرس نے پاکستان کو بھی کئی نقصانات سے دوچار کیا۔ ملک میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ کم ہوا ہے لیکن ابھی ختم نہیں ہوا۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے تقریباً ایک سال کے بعد معمولات زندگی پہلے کی طرح بحال کرنے اور پابندیوں کو ختم کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

این سی او سی کی ہدایت کے تحت تجارتی سرگرمیوں پر وقت کی پابندی کو ختم کردیا گیا ہے۔ یکم مارچ 2021 یعنی آج سے اسکول معمول کے مطابق کھول دیے  گئے ہیں اور بچوں کو ہفتے میں 5 دن اسکول جانا ہوگا۔

10 مارچ کو این سی او کے اجلاس میں کرونا وائرس کے حالات کا جائزہ لیا جائے گا جس کے  بعد 15 مارچ سے شادی کی تقریبات اور سینما گھروں کو عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

جاوید آفریدی کی کرونا ویکسین کے تناظر میں اہم اپیل

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر قیصر سجاد نے نیوز 360 سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومت نے یہ فیٖصلہ جلد بازی میں لیا ہے جس سے پاکستان کو کرونا وائرس کی تیسری لہر سے نمٹنا پڑ سکتا ہے اور کرونا کیسز کی شرح دوبارہ بڑھ  سکتی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اس وقت تک پابندیوں کو ختم نہیں کیا جانا چاہیے جب تک کم از کم 70 فیصد آبادی کو کرونا وائرس سے بچاؤ ویکسین نہیں لگ جاتی۔ ‘

ڈاکٹر قیصر سجاد نے کہا کہ ’کرونا وائرس اور ویکسینیشن کے بارے میں عوام کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ طبی کارکنان نے مشورہ دیا ہے کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے اشتہارات میں ڈاکٹرز کے مختصر انٹرویوز چلانے چاہئیں جن میں وہ کرونا وائرس کے بارے میں آگاہ کریں۔‘

 انہوں نے اپیل کی کہ ’حکومت کو چاہیے کہ کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین کے بارے میں عوام کی غلط فہمی کو دور کرے۔‘

متعلقہ تحاریر