انڈیا کے مسلمان شہری ہندوؤں کی مدد کے لیے سب سے آگے
یہ وہی مسلمان ہیں جو کئی دہائیوں سے ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں مظالم کا شکار تھے۔

انڈیا کرونا کی وباء سے شدید متاثر ہے جہاں یومیہ ہزاروں کی تعداد میں اموات ہورہی ہیں لیکن اس صورتحال میں مسلمان شہری ہندوؤں کی مدد کرنے کے لیے صف اول پر کھڑے ہیں۔ یہ وہی مسلمان ہیں جو کئی دہائیوں سے ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں مظالم کا شکار تھے تاہم اب وہ مذہب یا فرقے سے قطع نظر پوری قوم کے ساتھ کھڑے ہیں۔
انڈیا کو کرونا کی وباء سے متعلق بدترین صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ملک میں یومیہ ہزاروں افراد وباء کے باعث ابدی نیند سو رہے ہیں جبکہ مریضوں کی بڑی تعداد اسپتالوں میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔
انڈیا کی ریاست گجرات کے شہر سورت میں ایک مسلمان مفتی محمد سہروردی نے 5 سال قبل ’رحمان ایجوکیشن اینڈ چیریٹیبل ٹرسٹ‘ قائم کیا تھا۔ اس ٹرسٹ کے ذریعے کرونا کی وباء کے مریضوں کو اب تک کم از کم 300 آکسیجن سلینڈرز فراہم کیے جاچکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
ایدھی فاؤنڈیشن کی انڈین حکومت کو مدد کی پیشکش
صرف یہی نہیں بلکہ یہ ٹرسٹ کرونا کی وباء میں مبتلا مریضوں کو دواؤں کی فراہمی میں بھی مدد کر رہا ہے۔ یہ صرف سلینڈرز ہی فراہم نہیں کرتا ہے بلکہ اسے مریضوں کے لیے قابل استعمال بنا کر ماسک کے ساتھ تیار حالت میں بھیجتا ہے۔
دوسری جانب انڈیا کی ریاست مدھیا پردیش کے شہر بھوپال کے رہائشیوں دانش صدیقی اور صدام قریشی نے اب تک کرونا کی وباء کے باعث انتقال کرنے والے کم از کم 60 ہندوؤں کی آخری رسومات ادا کی ہیں۔ یہ وہ لوگ تھے جن کے اہل خانہ نے انہیں مردہ حالت میں اس لیے چھوڑ دیا تھا کہ کہیں میت سے کرونا ان میں منتقل نہ ہوجائے۔

اس نازک صورتحال کے دوران جب خاندان اپنے پیاروں کے قریب جانے سے بھی خوفزدہ ہیں انڈیا کے یہ دو مسلمان شہری مذہبی اختلافات کو نظرانداز کرتے ہوئے ہندوؤں کی مدد کر رہے ہیں۔ روزہ رکھنے کے باوجود دونوں مسلمان شہری روزانہ اسپتالوں میں جاتے ہیں اور اسپتالوں کے رحم و کرم پر چھوڑے گئے مردوں کی آخری رسومات ادا کرتے ہیں۔
مزید برآں انڈیا کی ریاست مہاراشٹرا کے شہر ناگپور کے رہائشی پیارے خان نے شہر اور اس کے اطراف کے اسپتالوں میں 400 میٹرک ٹن میڈیکل مائع آکسیجن فراہم کرنے کے لیے ایک کروڑ کے قریب انڈین روپے خرچ کیے ہیں۔
پیارے خان 1995 میں ناگپور ریلوے اسٹیشن پر کینو فروخت کرتے تھے۔ وہ رمضان کے مہینے میں سیلنڈرز کو زکوٰۃ کے طور پر عطیہ کر رہے ہیں اور اسے انسانیت کی خدمت سمجھتے ہیں۔
انڈیا میں ہندو انتہا پسندی کا شکار مسلمان آج اپنے ہندو بھائیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے شانے سے شانہ ملا کر کھڑے ہیں۔ تاہم بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے چند رہنماؤں نے قبرستانوں میں مسلم رضاکاروں کی موجودگی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’مسلمانوں کو مذہبی رسومات میں شامل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ انہیں اس کا علم نہیں ہے۔‘









