جنگ گروپ کے سابق ملازم کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور

شاہ زمان پرانے دور کے روزنامہ جنگ کے ایک مشین مین تھے جن کا کام ہزاروں کی تعداد میں ہر روز اخبارات چھاپنا اور تقسیم کرنا تھا۔

پاکستان کے نامور میڈیا گروپ ’جنگ‘ کے سابق ملازم کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ جنگ گروپ کے لیے زندگی کے 45 سال وقف کردینے والے ملازم شاہ زمان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔

جنگ میڈیا گروپ کے تحت کراچی کے روزنامہ جنگ کے لیے اپنی زندگی کے لگ بھگ 45 سال وقف کرنے والے سابق ملازم شاہ زمان کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ شاہ زمان پرانے دور کے روزنامہ جنگ کے ایک مشین مین تھے جن کا کام ہزاروں کی تعداد میں ہر روز اخبارات چھاپنا اور تقسیم کرنا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

جنگ گروپ کے برطرف ملازم اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھے

انہوں نے اپنی زندگی کے تقریباً 60 سال سلطانہ آباد کراچی کی کچی بستی میں گزارے ہیں۔ شاہ زمان کچھ عرصہ قبل ریٹائرڈ ہونے کے بعد اپنا مکان ایک شخص کے ہاتھوں اس امید پر فروخت کر کے اپنے آبائی گاؤں چلے گئے کہ بعد میں آ کر اپنی رقم وصول کر لیں گے۔ گاؤں پہنچنے کے چند ہی روز بعد ان کی بیوی اس جہاں فانی سے کوچ کر گئی ہیں۔

شاہ زمان جب مکان کے خریدار سے اپنی رقم لینے کے لیے کراچی واپس آئے تو انہیں دربدر کی ٹھوکروں اور آج کل کے وعدوں کے سوا کچھ نہیں ملا اور انہیں عمر بھر کی کمائی ڈوبتی ہوئی محسوس ہوئی۔

دربدر کی ٹھوکریں کھاتے کھاتے اور اپنی رقم کا مطالبہ کرتے کرتے شاہ زمان کو کراچی کے مشہور پی آئی ڈی سی چوک کے پاس ایک گاڑی نے ٹکر مار دی اور انہیں کسی نامعلوم شخص نے جناح اسپتال منتقل کیا۔ شاہ زمان جناح اسپتال کے ٹراما وارڈ کے بیڈ پر زخموں سے چور اور خون میں لہولہان پڑے ہیں۔

جنگ گروپ کے ملازمین کا مالک کی حمایت کے بعد مخالفت میں احتجاج

زندگی کے کئی سال جنگ گروپ کے لیے وقف کرنے والے ملازم پر برا وقت آیا تو ادارے کا کوئی بھی شخص ان کی دادرسی کے لیے موجود نہیں ہے۔ ذرائع ابلاغ کے اداروں کی جانب سے ملازمین سے ناروا سلوک کوئی نئی بات نہیں ہے۔ جنگ گروپ اس سے قبل اپنے کئی وفادار ملازمین کو برطرف کر چکا ہے جبکہ تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے باعث بھی ملازمین پریشان اور سراپا احتجاج ہیں۔

متعلقہ تحاریر