پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مستحکم رکھنے کے لیے لیوی میں کمی

وزیر مملکت فرخ حبیب کے مطابق 15 مئی سے 31مئی تک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے سے ملکی خزانے پر 2ارب 77کروڑ روپے کا بوجھ پڑے گا۔

حکومت پاکستان عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود ملک میں قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے پیٹرولیم لیوی (پی ایل) میں کمی کررہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2021 سے اب تک ڈیزل پر عائد پیٹرولیم لیوی میں 64 فیصد کمی کی گئی یعنی پیٹرلیم لیوی کی مد میں حکومت ڈیزل پر 24.38 روپے کے بجائے اب تقریبا 8.60 روپے وصول کررہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ترسیلات زر مہینے کی بلند ترین سطح پر

پیٹرولیم لیوی میں کمی کے باوجود گذشتہ 5 ماہ کے دوران ڈیزل 25 فیصد مہنگا ہوا ہے، جبکہ ڈیزل کی ایکس ریفائنری قیمت 63 روپے سے بڑھ کر 79 روپے تک پہنچ گئی ہے۔

دوسری جانب جنوری 2021 سے 18 مئی تک پیٹرول پر عائد لیوی میں 79 فیصد کم ہوئی ہے، اب حکومت پیٹرول پر 22.85  روپے کے بجائے صرف 4.74 روپے ہی وصول کررہی ہے۔

پیٹرولیم لیوی میں کمی کے باوجود اس عرصے میں پیٹرول 34 فیصد مہنگا ہوا ہے۔ گذشتہ 5 ماہ کے دوران پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت 57.71 روپے سے بڑھ کر لگ بھگ 78 روپے کے قریب جا پہنچی ہے۔

تاہم مالی سال 2021 میں اب تک پیٹرولیم لیوی (پی ایل) میں بھی 30 روپے فی لیٹر اضافہ دیکھا گیا ہے۔

رواں سال 2021 میں 15 مئی کے بعد آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پیٹرول پر 1 روپیہ 90 پیسے فی لیٹر اور ڈیزل پر 3 روپے 25 پیسے فی لیٹر اضافے کی تجویز دی تھی۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کی تجویز مسترد کرتے ہوئے قیمتیں برقرار رکھنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

وفاقی وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب کا کہنا تھاکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھانے سے حکومتی خزانے کو 2 ارب 77 کروڑ روپے کا بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔

واضح رہے کہ رواں سال 30 اپریل کو بھی حکومت نے اگلے 15 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

متعلقہ تحاریر