نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کے تخمینے نے حکومت کو خوش کردیا

نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کے جی ڈی پی گروتھ کا تخمینہ لگانے کے بعد حکومت کو سرسبز باغ نظر آنے لگے اور ہدف حاصل کرنے سے قبل ہی خوشی منانی شروع کردی۔

نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی نے رواں مالی سال جی ڈی پی گروتھ کا تخمینہ 4 فیصد کے قریب لگایا ہے اور حکومت نے ابھی سے خوشی منانی شروع کردی ہے۔

کرونا کی وباء کے باعث لاک ڈاؤن اور غیر یقینی صورت حال کی وجہ سے ہچکولے کھاتی ہوئی پاکستانی معیشت میں بہتری کے اعشاریے ملنے شروع ہوگئے ہیں۔ لاک ڈاؤن کے باوجود پاکستان میں لوگوں معاشی سرگرمیوں کو تیز سے تیز کرنے کی کوشش کی ہے۔ مستقبل کے بارے میں حالات کی غیر یقینی اور غیر واضح تصویر نے لوگوں کے لیے محنت کو پروان چڑھایا ہے۔ عوام پہلے سے زیادہ کام کرنے اور لاک ڈاؤن سے اپنا نقصان پورے کرنے کے لیے پہلے سے زیادہ کوششیں کر رہے ہیں۔ اس سب کا اثر قومی اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں بھی نظر آیا ہے اور اس سلسلے میں جمع ہونے والے اعداد و شمار اس کا ثبوت بھی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ایف پی سی سی آئی کا سیلز ٹیکس کی شرح 5 فیصد کرنے کا مطالبہ

نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کے مطابق رواں مالی سال کے لیے جی ڈی پی گروتھ کا تخمینہ 3.9 فیصد رہا۔ زراعت میں شرح نمو 2.7، صنعت میں 3.5 فیصد اور خدمات کے شعبے میں شرح ترقی 4.3 فیصد رہی ہے۔ رواں سال سروسز سیکٹر کی پیداوار 4.43 فیصد رہی۔ جبکہ مینوفیکچرنگ سیکٹر کی پیداوار 8.71 فیصد، تعمیرات کے شعبہ میں 8.34 فیصد، ہول سیل اور ریٹیل ٹریڈ کے شعبے میں 8.37 فیصد اضافہ ہوا۔

نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کے جی ڈی پی گروتھ کا تخمینہ لگانے کے بعد حکومت کو سرسبز باغ نظر آنے لگے ہیں اور ہدف حاصل کرنے سے قبل ہی خوشی منانی شروع کردی ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے لکھا ہے کہ ‏مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں نمو کے اندازے کو حتمی شکل دیتے ہوئے نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی نے اس کے 3.94 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا ہے۔

عمران خان نے لکھا کہ یہ شرح نمو کرونا کی وباء پر قابو پاتے ہوئے اختیار کی گئی ہماری معاشی پالیسیز کی کامیابی کی عکاس ہے۔ ہماری جیت معاشی بحالی زراعت، صنعت اور خدمات جیسے3 ب ڑےشعبوں کے درمیان توازن پر محیط ہے۔

ادھر وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کرونا کی وباء کے باوجود رواں مالی سال جی ڈی پی کا 3.94 فیصد رہنے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ ٹوئٹر پیغام میں انہوں نے لکھا کہ نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی نے جی ڈی پی نمو کو حتمی شکل دے دی ہے۔ رواں مالی سال کے دوران جی ڈی پی 3.94 فیصد رہی اور کرونا کی وباء کے باوجود جی ڈی پی کی نمو بہت اچھی ہے۔

انہوں نے لکھا کہ یہ جی ڈی پی نمو وزیراعظم عمران خان کی کامیاب پالیسیز کا ثبوت ہے۔

جبکہ وفاقی وزیر برائے توانائی حماد اظہر نے ٹوئٹر پیغام میں لکھا ہے کہ نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کے مطابق رواں مالی سال جی ڈی پی کی نمو 4 فیصد کے برابر ہے اور یہ ماضی کی نسبت قابل ذکر ریکوری ہے۔

انہوں نے لکھا کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ہوا جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ بھی سرپلس میں ہے۔

پاکستان میں زرعی شعبہ کی ترقی کیسی رہی؟

گذشتہ مالی سال کے مقابلے میں زرعی شعبے میں ترقی کی شرح  2.77 فیصد رہی۔ اہم اجناس کی گروتھ میں 4.65 فیصد رہی۔ چاول کی پیداوار میں 13.6 فیصد اور گنے کی پیداوار میں 22 فیصد نمو ہوئی۔ مکئی کی پیداوار 7.3 فیصد بڑھی۔ کپاس کی پیداوار میں 15.6 فیصد کمی ہوئی جبکہ لائیو اسٹاک کے شعبے میں ترقی کی شرح 3.1 فیصد رہی۔

پاکستان میں صنعتی کا احوال؟

رواں مالی سال جولائی تا اپریل پاکستان میں صنعتی پیداوار 3.57 فیصد رہی۔ بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 9.29 فیصد کی گروتھ رہی۔ جبکہ چھوٹی صنعتوں کی پیداوار میں 3.88 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ٹیکسٹائل کے شعبے میں شرح نمو 5.9 فیصد، مشروبات اور تمباکو کی پیداوار میں 11.73 اضافہ ہوا ہے۔

فیکٹریاں اور کارخانے
Express Tribune

پیٹرولیم مصنوعات میں پیداوار 12.71 فیصد بڑھی۔ ادویات سازی کے شعبے میں ترقی کی شرح 12.57 فیصد اور کیمیکل میں 11.65 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ گاڑیوں اور پرزہ جات کی پیداوار میں 23.38 اور کھاد کی پیداوار میں 5.69 فیصد اضافہ ہوا۔ بجلی اور گیس کی پیداوار میں 22.96 فیصد کمی بھی ریکارڈ کی گئی۔

معیشت میں بہتری کے آثار

ماہرین معاشیات مطابق کرونا کی وباء اور لاک ڈاؤن کے حالات کے باوجود پاکستان کی معیشت میں بہتری کے آثار ہیں اور موجودہ معاشی اعداد و شمار حوصلہ افزا ہیں۔

متعلقہ تحاریر