سرکاری تقاریب میں اردو کے استعمال کا اعلامیہ انگریزی میں
وزراء اور سرکاری افسران کو تقاریر قومی زبان میں عوام تک پہنچانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے تمام سرکاری تقریبات میں اردو زبان کے استعمال کی ہدایت سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ ٹوئٹر صارفین کا کہنا ہے اردو زبان کے حوالے سے جاری ہونے والا حکم نامہ انگریزی زبان میں تحریر کیا گیا ہے۔
پاکستان میں سوشل میڈیا ٹرولنگ کا رجحان حد سے بڑھ چکا ہے۔ فنکاروں سے لے کر سیاستدانوں تک کوئی اس سے محفوظ نہیں ہے۔ 3 جنوری کو وزیراعظم عمران خان کے دفتر سے ایک اعلامیہ جاری ہوا جس میں تمام سرکاری تقریبات میں (جن میں وزیر اعظم شرکت کریں گے) اردو زبان کے استعمال کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی تھی۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط ڈاکٹر شہباز گل نے ٹوئٹر پر حکم نامے کی تصویر شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ وزرا اور سرکاری افسران کو بھی تقاریر قومی زبان میں عوام تک پہنچانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ انہوں نے مزید لکھا کہ پاکستان میں عوام کی بڑی تعداد انگریزی زبان نہیں سمجھتی ہے۔ وزیراعظم چاہتے ہیں جب بھی کوئی عوام سے جڑا پیغام یا تقاریر نشر ہوں، وہ ہماری قومی زبان اردو میں ہوں۔
وزرا اور سرکاری افسران کو بھی ہدایات جاری کی جائیں گی کہ اپنا پیغام تقاریر اپنی قومی زبان میں عوام تک پہنچائیں۔ ہماری عوام کی زیادہ تعداد انگریزی زبان نہیں سمجھتی۔عوام کی توہین مت کریں۔ وزیراعظم چاہتے ہیں جب بھی کوئی عوام سے جڑا پیغام یا تقاریر ہوں وہ ہماری قومی زبان اردو میں ہوں https://t.co/BxgA6dVodk pic.twitter.com/sMun3Rycrq
— Dr. Shahbaz GiLL (@SHABAZGIL) June 5, 2021
یہ بھی پڑھیے
وزیراعظم ‘ارطغرل’ کے بعد ‘یونس ایمرے’ کے فین
حکم نامہ جب سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تو صارفین کی جانب سے ٹرولنگ کا آغاز ہوگیا۔ ٹوئٹر پر لوگوں کی بڑی تعداد نے لکھا کہ سرکاری تقاریب میں اردو زبان کا استعمال ہوگا مگر سرکار نے یہ بات بھی انگریزی زبان میں تحریر کی ہے۔
کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ اردو استعمال کی اطلاع بھی انگریزی میں دی گئی ہے 😅
— Jawwad Khan (@jagrokhan) June 5, 2021
ایک صارف نے لکھا کہ اگر حکومت اس حوالے سے سنجیدہ ہے تو 3 سال کا پلان مرتب کرے جس میں ہر سرکاری اعلامیہ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں تحریر ہو۔
If they are serious, they must adopt smooth policy with target of three years implementation. In this regard start would be three years ( Translation of urdu with each English document)
— adeel khan (@Adeel770Khan) June 6, 2021









