فلسطین پر کیے جانے والے مظالم بھی نیتن یاہو کو بچا نہ سکے

12 سال بعد نیتن یاہو سے وزارت عظمیٰ کی کرسی چھن گئی۔

اسرائیل کی پارلیمان کی جانب سے نئی اتحادی حکومت کے قیام کی منظوری کے بعد نیتن یاہو کے 12 سالہ اقتدار کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ نفتالی بینیٹ اسرائیل کے نئے وزیر اعظم بن گئے ہیں۔

طویل عرصے تک اسرائیل کے وزیر اعظم ہونے کا اعزاز رکھنے والے بنیامن نیتن یاہو کا دور ختم ہوگیا ہے۔ اسرائیل کی پارلیمان کی جانب سے 8 جماعتی اتحادی حکومت کی منظوری دے دی گئی جس کے بعد دائیں بازو کے قوم پرست نفتالی بینیٹ نے نئے وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ 120 رکنی اسرائیلی پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے دوران نیفتالی بینیٹ کو 59 کے مقابلے میں 60 ووٹ حاصل ہوئے جبکہ ایک رکن غیر حاضر رہا۔

نیفتالی بینیٹ کو اسرائیل کے پہلے آرتھوڈوکس یہودی رہنما بننے کا اعزاز حاصل ہوگیا ہے۔ مخلوط حکومت کے معاہدے کے تحت یامینا پارٹی کے سربراہ نیفتالی بینیٹ 2023 تک وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستانی نژاد زاہد قریشی پہلے امریکی وفاقی جج نامزد

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حکومتی اتحاد میں ایسی جماعتیں موجود ہیں جن میں وسیع نظریاتی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ اس اتحاد میں دائیں اور بائیں بازو کی جماعتوں کے علاوہ اسلامی جماعت رام بھی شامل ہے جو کہ فلسطینی مسلمانوں کی نمائندگی کرتی ہے اور اس کی 4 نشستیں ہیں۔ نیتن یاہو کے دوبارہ وزیر اعظم نہ بننے کی ایک بڑی وجہ اتحاد میں شامل تمام سیاسی جماعتوں کی ان کے لیے مخالفت قرار دی جارہی ہے۔

کہا جارہا ہے کہ نیتن یاہو نے ایک مرتبہ پھر وزیراعظم بننے کی کوشش کے لیے پچھلے دنوں فلسطین میں ظلم کا بازار گرم کیا جو ان کے کسی کام نہ آیا اور الٹا دنیا بھر میں اسرائیل کی بربریت ایک مرتبہ پھر عیاں ہوگئی۔

واضح رہے کہ ماضی میں نیتن یاہو نے 5 مرتبہ وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔ پہلی مرتبہ 1996 سے 1999 تک پھر 2009 سے لے کر 2021 تک وہ وزارت عظمیٰ کی کرسی پر براجمان رہے۔

متعلقہ تحاریر