پاکستان جوہری ہتھیاروں کے معاملے میں بھارت سے آگے
پاکستان کے پاس تقریباً 165، جبکہ بھارت کے پاس 156 جوہری ہتھیار موجود ہیں۔
جوہری ہتھیاروں کے معاملے میں پاکستان نے بھارت کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
سویڈن کے تھنک ٹینک ’اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ‘ (سپری) نے اپنی سالانہ رپورٹ جاری کردی ہے جس میں جوہری ہتھیاروں سے متعلق کئی اہم معلومات شامل ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق جوہری ہتھیاروں کے معاملے میں چین اور پاکستان بھارت سے بہت آگے ہیں۔
سپری کی رپورٹ کے مطابق 2021 کے آغاز میں جوہری صلاحیت کے حامل 9 ممالک (جن میں امریکا، چین، برطانیہ، روس، فرانس، اسرائیل، شمالی کوریا، پاکستان اور انڈیا شامل ہیں) کے پاس لگ بھگ 13 ہزار 80 جوہری ہتھیار تھے۔ ہتھیاروں کی یہ تعداد اس اندازے سے کم ہے جو سپری نے 2020 کے آغاز میں لگایا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
انڈیا کا امریکا سے ہتھیاروں کا حصول خطے کے امن کیلئے خطرہ ہے، پاکستان
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ ہتھیاروں میں سے 3 ہزار 825 فوری طور پر کسی بھی قسم کی کارروائی کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں اور گزشتہ برس ایسے ہتھیاروں کی تعداد 3 ہزار 720 تھی۔ ان 3 ہزار 825 ہتھیاروں میں سے 2 ہزار کے قریب جوہری ہتھیار امریکا اور روس کے پاس ہیں جنہیں ہائی الرٹ موڈ میں رکھا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس کے مقابلے میں شمالی کوریا نے تقریباً 10 نئے جوہری ہتھیار بنائے ہیں اور اس وقت اس کے پاس 40 سے 50 جوہری ہتھیار موجود ہیں۔ جبکہ اسرائیل کے پاس تقریباً 90 جوہری ہتھیار ہیں۔
سپری کی رپورٹ کے مطابق جوہری ہتھیاروں کے معاملے میں پاکستان نے بھارت کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے پاکستان نے 5 نئے جوہری ہتھیار بنائے ہیں اور اب اس کے پاس تقریباً 165 جوہری ہتھیار ہیں۔ اس کے برعکس گزشتہ سال انڈیا نے 6 نئے جوہری ہتھیار بنائے ہیں لیکن اب اس کے پاس تقریباً 156 جوہری ہتھیار موجود ہیں جو پاکستان سے کم ہیں۔
ادھر پاکستان کا دوست اور ہمسایہ ملک چین بھی جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں بھارت سے بہت آگے ہے۔ چین نے گزشتہ سال کے مقابلے میں 30 نئے جوہری ہتھیار بنائے ہیں اور اب اس کے پاس تقریباً 350 جوہری ہتھیار موجود ہیں۔









