قومی سلامتی پر سیاسی قیادت کی یکجہتی وقت کی ضرورت
جمعرات کے روز کوئٹہ دہشتگردی کا نشانہ بن گیا جب فوجی قیادت سیاست قیادت کو قومی سلامتی پر بریفنگ دے رہی تھی۔
سیاسی قیادت کی جانب سے قومی سلامتی کے معاملے پر مکمل یکجہتی اور یکساں اتحاد کی جتنی ضرورت اس وقت ہے شائد اس سے پہلے نہیں تھی۔ جمعرات کے روز بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ ایک مرتبہ پھر دہشتگردی کا نشانہ بن گیا جبکہ اس سے قبل عسکری قیادت پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے اجلاس میں سیاسی قیادت کو ملکی اور خطے کی سیکیورٹی کی صورتحال پر بریفنگ دی تھی۔
کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے حکام کا کہنا ہے کہ پاک فوج کی گاڑی کو موٹر سائیکل میں نصب 5 کلو گرام بارودی مواد سے نشانہ بنایا گیا، جس میں کم از کم 6 جوانوں کی زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جن کی حالت تشویشناک بناتی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
فواد چوہدری فردوس عاشق اعوان کے نقش قدم پر
دھماکے سے قبل پارلیمنٹری کمیٹی برائے قومی سلامتی کے ان کیمرہ اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور انٹر سروسز انٹیلیجینس (آئی ایس آئی) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے سیاسی قیادت کو کشمیر، افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء اور پاک افغان بارڈر کی صورتحال سمیت دیگر امور پر بھی بریفنگ دی۔ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیرصدارت ہونے والا اجلاس تقریباً 8 گھنٹے جاری رہا۔
اجلاس میں وفاقی وزراء، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف ، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر سید یوسف رضا گیلانی ، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ، جے یو آئی (ف) کے پارلیمانی لیڈر مولانا اسد محمود ، اے این پی کے رہنما امیر حیدر اعظم خان ہوتی اور ایم کیو ایم پی کے خالد مقبول صدیقی نے شرکت کی۔ تاہم اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان موجود نہیں تھے۔
فوجی قیادت کی بریفنگ کے بعد پارلیمنٹیرین کی جانب سے سوال و جواب کا سلسلہ بھی جاری رہا تھا۔
قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں سیاسی قیادت اور فوجی قیادت کی جانب سے مکمل یکجہتی دکھائی گئی۔ فوجی قیادت کی جانب سے دی جانے والی بریفنگ پر حکومت اور حزب اختلاف نے مکمل اعتماد کا اظہار کیا مگر پاکستان کو درپیش خطرات کی فوراً ہی ایک شکل سامنے آگئی جب کوئٹہ میں فوجی گاڑی کو دہشتگردی کا نشانہ بنادیا گیا۔
سیاسی اور دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے کی اور خصوصاًافغانستان میں لمحہ با لمحہ تبدیل ہوتی ہوئی صورتحال پر پاکستان کی ساری سیاسی قیادت کو سیاست سے بالاتر ہوکر مکمل یکسوئی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا ہوگا، تاکہ آنے والے حالات کا ایک قوم بن کر مقابلہ کیا جاسکے۔
تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان مخالف قوتوں نے افغانستان میں دوبارہ جمع ہونا شروع کردیا ہے کیونکہ امریکی فوج جنگ زدہ ملک سے بغیر کسی سیاسی تصفیہ کے نکل رہا ہے۔ کوئٹہ جیسی کارروائیوں سے دہشتگرد پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کے ساتھ چین پاکستان اقتصادی راہداری کو بھی نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔









