لاہور دھماکے میں بھارت ملوث، کیا ایف اے ٹی ایف نوٹس لے گا؟
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایف اے ٹی ایف سے بھارت کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

لاہور دھماکے میں بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد ملنے کے بعد پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سے بھارت کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کردیا۔ اب سوال یہ ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کی فنڈنگ سے متعلق ثبوت ملنے کے بعد بھارت کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے یا نہیں۔
اسلام آباد میں وفاقی وزیر فواد چوہدری اور آئی جی پنجاب انعام غنی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے کہا کہ حملے کے لیے استعمال ہونے والی رقم بھارت نے تیسرے ملک کے ذریعے پاکستان بھیجی، اس حوالے سے بینک اکاؤنٹ کی تمام تفصیلات بھی موجود ہیں۔ معید یوسف کے مطابق حکومت کے پاس مکمل ثبوت ہیں کہ لاہور حملے کے تانے بانے بھارت سے ملتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حملے کے ماسٹر مائینڈ کا تعلق بھارتی خفیہ ایجنسی را سے ہے، حکومت کے پاس اس کے جعلی نام، اصل شناخت اور موجودگی کے بارے میں تمام تر تفصیلات ہیں۔ معید یوسف نے بتایا کہ ملزم عید گل کا تعلق افغانستان سے ہے اور اس نے ہی علاقے کی ریکی کی۔
معید یوسف نے کہا کہ حکومت بھارت سے منسلک اس انٹرنیشنل نیٹ ورک کو سامنے لانے کے لیے پرعزم ہے۔ پریس کانفرنس میں آئی جی پنجاب انعام غنی کا کہنا تھا کہ دھماکے کا ایک ملزم پیٹر کراچی کا رہنے والا ہے اور اس کا ٹیلی فونک اور واٹس اپ ڈیٹا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیے
کیا پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکل پائے گا؟
دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایف اے ٹی ایف سے بھارت کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی دہشتگردی کے سارے ثبوت عالمی فورمز کو پہنچا دیے گئے ہیں اور اب وقت آگیا ہے کہ دنیا اس کا نوٹس لے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے حالیہ اجلاس میں پاکستان کو صرف ایک پوائنٹ کی بنا پر ہی گرے لسٹ میں برقرار رکھا گیا ہے۔ دوسری طرف بھارت سرعام دہشگردی کرتے ہوئے خطے اور دنیا کے امن کو برباد کررہا ہے جس کا تاحال کوئی نوٹس نہیں لیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں 23 جون کو ہونے والے کار بم دھماکے میں ایک پولیس اہلکار سمیت 3 افراد جاں بحق اور 21 زخمی ہوگئے تھے۔









