یورو بانڈ کے اجراء سے پاکستان کو مزید ایک ارب ڈالرز موصول
پاکستان نے رواں سال مارچ میں یورو بانڈ کے اجراء سے 2 ارب 50 کروڑ ڈالرز کا قرض حاصل کیا تھا۔
پاکستان نے منگل کے روز جاری کردہ تین مراحل کے یورو بانڈ کے اجراء سے مزید 1 ارب ڈالرز کا قرض حاصل کرلیا ہے۔ رواں سال مارچ میں جاری کردہ یورو بانڈ سے 2 ارب 50 کروڑ ڈالرز کا قرض حاصل کیا گیا تھا۔
پاکستان نے پانچ سال کے لیے 5 اعشاریہ 8 فیصد پر 30 کروڑ ڈالرز، 10 سال کی مدت کے لیے 7 اعشاریہ 12 فیصد پر 40 کروڑ ڈالرز کے بانڈز جاری کیے ہیں، جبکہ 30 سال کی مدت کے لیے 8 اعشاریہ 4 فیصد پر 30 کروڑ ڈالرز کے یورو بانڈز بونڈز جاری کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستانی برآمدات آسمان سے باتیں کرنے لگیں
زرمبادلہ کی مارکیٹوں کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ (ایم ٹی این) کے اندراج کے ساتھ ایک پروگرام پر مبنی نقطہ نظر اپنایا ہے جس سے وہ باقاعدگی سے مارکیٹ کو قابو کر سکتا ہے۔
ایم ٹی این نامزد یا مقرر کردہ ڈیلروں کو سرمایہ کاروں سے مستقل یا وقفے وقفے سے فنڈ اکٹھا کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس پروگرام کے تحت ایک بانڈ صرف ایک بار رجسٹرڈ ہو سکتا ہے۔ ایم ٹی این سے حاصل شدہ سرمائے سے غیرملکی منڈیوں تک آسانی سے رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان نے 2026 میں واجب الادا 5 سالہ قسط کے لیے 6 اعشاریہ 125 فیصد، 2031 میں میچور ہونے والے 10 سالہ بانڈ کے لیے 7 اعشاریہ 375 فیصد اور 2051 میں پختہ ہونے والے 30 سالہ یورو بانڈ پر 8 اعشاریہ 875 فیصد پر ابتدائی قیمت دی تھی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہم اس وقت غیرملکی مارکیٹ میں آسانی سے داخل ہوسکتے ہیں کیونکہ عالمی سطح پر سود کی شرح کم ہے اور مارکیٹ میں بہت زیادہ سرمایہ موجود ہے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان کی بیرونی سرمایہ کاری کی ضرورت بڑھ رہی ہے، مالی سال 2021-22 کے لیے بیرونی سرمایہ کاری کا ہدف 5 ارب 50 کروڑ ڈالرز مقرر کیا ہے، اور اس کے لیے یورو بانڈ اور سکوک بانڈ کے اجراء سے 3 ارب 50 کروڑ ڈالرز کا ہدف مقرر کیا ہے۔ آئی ایم ایف کا پروگرام بھی تعطل کا شکار ہے جو مستقبل میں فنڈز اکٹھا کرنے کے لیے ایک چیلنج بن سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اب غیرملکی مارکیٹوں کو کنٹرول (قابو) کرنے کا وقت آگیا ہے، کیونکہ پاکستان کے بیرونی اکاؤنٹ کی صورتحال بھی اب بہتر ہے لیکن مستقبل میں بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ دباؤ دیکھا جاسکتا ہے۔









