ناراض بلوچوں سے مذاکرات کے لیے حکومت اور عسکری قیادت ایک پیج پر
سیاسی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے کہ اس مرتبہ مذاکرات کامیاب ہوپائیں گے یا نہیں۔

وفاقی حکومت اور عسکری قیادت نے بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے ناراض بلوچوں سے رابطے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ اس مرتبہ مذاکرات کامیاب ہوپائیں گے یا نہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے گوادر میں دو روز قبل ایک تقریب کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ بلوچستان کے عسکریت پسند رہنماؤں سے مذاکرات کا سوچ رہے ہیں، بلوچستان کی ترقی کے لیے ہمیں مل بیٹھ کر مسائل حل کرنے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ مزاحمت کرنے والوں کی بھی رنجشیں رہی ہیں اور بھارت بھی انہیں اپنے مقاصد اور ملک میں انتشار پھیلانے کے لیے استعمال کرتا ہوگا، مگر اب حالات یکسر تبدیل ہورہے ہیں۔وزیر اعظم عمران خان کے مطابق مرکز نے بھی کبھی سنجیدگی سے بلوچستان کے مسائل حل کرنے پر توجہ نہیں دی اور سابق حکمرانوں نے بھی بلوچستان سے زیادہ لندن اور دبئی کے دورے کیے، بلوچستان کا پیسہ بھی صوبے پر خرچ نہیں ہوا جس کے باعث حالات خراب ہوئے۔
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں بتایا کہ حکومت نے ناراض بلوچ رہنماؤں سے مذاکرات پر کام شروع کردیا ہے۔ لیکن، صرف ان رہنماؤں سے بات چیت ہوگی جو بھارت سے رابطے میں نہیں ہیں۔
ناراض بلوچ رہنماؤں سے بات چیت پر کام شروع ہو گیا ہے، صرف ان رہنماؤں سے بات چیت ہوگی جو بھارت سے رابطے میں نہیں ہیں@fawadchaudhry pic.twitter.com/WaaPkBVuBt
— Fawad Chaudhry (Updates) (@FawadPTIUpdates) July 6, 2021
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بلوچ ری پبلکن پارٹی کے سربراہ براہمداغ بگٹی اور حربیار مری کی بھارتی رہنماؤں سے ملاقاتوں کی باتیں سامنے آتی رہی ہیں۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی ناراض بلوچ رہنماؤں سے بات چیت کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کے امن میں ہی پاکستان کی ترقی اور خوشحالی ہے۔ سیکیورٹی فورسز دشمنوں کے خلاف پرعزم ہیں، ملکی افواج دیگر ریاستی اداروں سے مل کر بلوچستان کے ردعمل کو قابل عمل بنانے میں مصروف ہے۔
وزیراعظم عمران خان کے اس اعلان کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ بحث عروج پر ہے کہ کیا بلوچستان کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں اس مرتبہ ناراض بلوچ رہنماؤں سے مذاکرات کامیاب ہو سکیں گے یا نہیں؟ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ ادوار میں سیاسی قیادت نے بلوچ رہنماؤں سے کیے گئے معاہدوں کی پاسداری نہیں کی اس لیے دیکھنا ہوگا کہ وزیراعظم عمران خان کے پاس کیا پلاننگ ہے۔
یہ بھی پڑھیے
روئٹرز کا پاکستان اور انڈیا کے درمیان خفیہ مذاکرات کا دعویٰ
ماہرین کے مطابق اس مرتبہ بلوچ عسکریت پسندوں سے بات چیت کے لیے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہیں اور ان میں بلوچوں سے مذاکرات کے لیے یکسانیت بھی پائی جاتی ہے اس لیے ایک امید کی کرن ہے کہ ناراض بلوچوں کے تمام گلے شکوے ختم کرکے انہیں قومی دھارا میں شامل کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اس اسے قبل پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں بھی ناراض بلوچ رہنماؤں سے مذاکرات کی کوششیں کی گئیں لیکن اس میں کوئی خاطرخواہ کامیابی حاصل نہیں ہوسکی تھی۔









