پشاور میں سرکاری ملازمین کی عجب ہوشیاری کی غضب کہانی

سرکاری دستاویزات کے مطابق 7ہزار 454 اہلکاروں نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے کر اپنے بچے آسامیوں پر کھپا دیئے۔

صوبہ خیبر پختون خوا کے دارالحکومت پشاور کے مختلف سرکاری محکموں میں ملازمین کی جانب سے عجب ہوشیاری کی غضب کہانی کا انکشاف ہوا ہے۔

اس بات کا انکشاف حالیہ تیار کی  گئی سرکاری دستاویزات میں سامنے آیا ہے جس کے مطابق سرکاری ملازمین خود قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے کر دوسری ملازمت اختیار کرلیتے ہیں جبکہ بچوں کو اپنی جگہ بھرتی کروا دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

جے ایس بینک کے عملے کا اپنے ہی بینک میں کروڑوں کا غبن

نیوز 360 کے ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبر پختون خوا میں ہزاروں سرکاری ملازمین نے غیر قانونی طور پر میڈیکل بنیادوں پر ریٹائرمنٹ لے رکھی ہے۔ مختلف سرکاری محکموں میں گریڈ 3 سے گریڈ 12 تک ملازمین میڈیکل بنیادوں پر ریٹائرمنٹ لے کر اپنے ناتجربہ کار اور غیر کوالیفائیڈ بچوں کو بھرتی کرا دیتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جب بچوں کو بھرتی کرایا جاتا ہے اس وقت نہ تو انٹرویو لیا جاتا اور نہ کوئی ٹیسٹ لیا جاتا ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق صرف محکمہ تعلیم پشاور میں 1980 سے لے کر اب تک 7 ہزار 454 ملازمین نے میڈیکل بنیادوں پر ریٹائرمنٹ حاصل کی ہے۔

پشاور سرکاری ملازمین

دستاویزات کے مطابق صرف 18 سو ملازمین کی ریٹائرمنٹ قانون کے مطابق ہوئی ہے، یعنی صرف 24 فیصد ملازمین کی ریٹائرمنٹ قانون کے مطابق ہوئی تھی۔

پشاور سرکاری ملازمین

مذکورہ انکشاف کے بعد صوبائی حکومت غلط طریقے سے مفادات حاصل کرنے اور 25 سال ملازمت پوری کرنے سے پہلے ریٹائر ہونے والوں کا راستہ روکنے کے لئے حرکت میں آگئی، اور اس کے لیے سول سرونٹس پنشن رولز اینڈ آرڈرز 2006 میں ترمیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ تحاریر