مہاراجہ رنجیت سنگھ کا مجسمہ بھی بیمار ذہنیت کا شکار
رنجیت سنگھ کا مجسمہ پہلے بھی 2 مرتبہ توڑا جاچکا ہے۔
لاہور میں کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان کے نوجوان نے شاہی قلعے میں نصب برصغیر کی تاریخی شخصیت مہاراجہ رنجیت سنگھ کے مجسمے کو توڑ دیا۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا ہے۔ پنجاب میں تاریخی شخصیات کے مجسموں کو نقصان پہنچانے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔
لاہور پولیس کا کہنا ہے کہ کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان رضوان سیرو تفریح کے لیے شاہی قلعے میں گیا جہاں اس نے رنجیت سنگھ کے مجسمے کو ہتھوڑے سے توڑ دیا۔ پولیس نے موقعے پر پہنچ کر ملزم کو گرفتار کرلیا۔ شیر پنجاب رنجیت سنگھ کے مجسمے کو توڑنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو معاملہ سامنے آیا۔
View this post on Instagram
وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا ہے کہ رنجیت سنگھ کے مجسمے کو نقصان پہنچانے والے ملزم کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بیمار ذہنیت کی علامات ہیں۔
لاہور میں رنجیت سنگھ کے مجسمے کو نقصان پہنچانے والے ملزم کے خلاف فوری کاروائی ہو گی۔ پچھلے دنوں سمیع اللہ صاحب کے مجسمے کی بھی بے حرمتی کی گئی۔ یہ بیمار ذہنیت کی علامات ہیں۔ اس سے پاکستان کے تشخیص کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔پولیس ایسے ملزموں کے خلاف سخت کاروائی کرے گی
— Dr. Shahbaz GiLL (@SHABAZGIL) August 17, 2021
یہ بھی پڑھیے
سمیع اللہ کا مجسمہ، وہی ہوا جو ملک میں ہاکی کے ساتھ ہوا
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 2019 میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی 180 ویں برسی پر شاہی قلعے میں ان کا مجسمہ نصب کیا گیا تھا۔ رنجیت سنگھ کے مجسمے کو 2 مرتبہ پہلے بھی توڑا گیا تھا جسے مرمت کے بعد دوبارہ نصب کیا گیا تھا۔
پنجاب میں کسی اہم شخصیت کے مجسمے کو توڑنے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل بہاولپور میں اولمپیئن سمیع اللہ کے مجسمے کی بھی بے حرمتی کی گئی تھی۔ قومی ہیرو کے مجسمہ سے ہاکی اور بال کو چوری کرلیا گیا تھا۔
Both hockey and ball stolen from the statue of legendary hockey player #samiullah.
Such a shame for us as a nation.
This is how we regard our heroes. pic.twitter.com/GTjblkSuma— Dr. Rana Usama (@rajput413_) July 18, 2021
پنجاب میں تاریخی شخصیات کے مجسموں کو توڑنے اور ان کی بے حرمتی کے بڑھتے واقعات پر مختلف حلقوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ ہم اپنے ہیروز کی توہین کرکے دنیا کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔
افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہونے کے بعد وہاں تاریخی عمارتوں اور شخصیات کے مجسموں کو مسمار کرنے کا خدشہ تھا لیکن یہ حیران کن طور پر یہ سب کچھ پاکستان میں ہوتا نظر آرہا ہے۔









