وزیراعظم عمران خان دو سالوں میں کرپشن کے خاتمے کا عہد کریں

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کرپشن وزیراعظم اور وزراء کے درمیان معاہدوں سے ختم نہیں ہوگی بلکہ عمران خان کے 2018 کے انتخابی وعدوں کے پاس سے ختم ہو گی۔

وزیر اعظم عمران خان اور وفاقی وزراء کے درمیان کارکردگی کی بنیاد پر معاہدہ طے پاگیا ہے، تاہم وزیراعظم اپنے انتخابی جلسوں میں عوام سے کیے گئے وعدوں کو بھول گئے ہیں جن کی بنا پر وہ انتخابات میں منتخب ہو کر آئے تھے۔

وزیراعظم عمران خان نے بدھ کے روز تمام وفاقی وزراء کے ساتھ کارکردگی کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔

وزیراعظم کی جانب سے یہ غیر معمولی اقدام اس وقت اٹھایا گیا ہے جب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے تقریباً دو سال باقی رہ گئے۔

یہ بھی پڑھیے

کیا حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد قومی حکومت کی راہ ہموار کرے گی؟

اس معاہدے کے برعکس عوام یہ سوال اٹھانے پر بالکل حق بجانب ہے کہ عمران خان اپنے ان وعدوں کو بھول گئے ہیں جن کی بنیاد پر انہوں نے 2018 کے انتخابات لڑے تھے اور جیتے تھے۔

اس معاہدے پر تبصرہ کرتے ہوئے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اقتدار میں آنے سے قبل کرپشن کے خاتمے کا وعدہ کیا تھا اور یہی ان کا بنیادی انتخابی نعرہ بھی تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک وعدہ وزیراعظم کو اپنے ساتھ بھی کرنا چاہیے کہ وہ اگلے دو سالوں کے اندر ملک سے کرپشن کا خاتمہ کردیں گے۔

سابق حکمرانوں نے اپنے دور اقتدار میں کرپشن سے جو رقم بنائی ہے ، چاہے وہ نواز شریف ہوں یا زرداری ہوں ان کا مکمل احتساب کیا جائے گا، اور ان سے عوام کی لوٹی ہوئی دولت نکلوائی جائے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ابھی تک وزیراعظم یا حکومت کی کرپشن کے خلاف کارکردگی بالکل ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ اصل میں اب وزیراعظم کو اپنے ساتھ وعدہ کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا ہے کہ کرپشن کا خاتمہ اور لوٹی ہوئی دولت واپس لانا عمران خان کے سب سے بڑے انتخابی نعرے تھے۔ کرپشن کے خلاف بلاتفریق جہاد ان کا بنیادی مقصد تھا۔ اپنے آپ سے وعدہ کرکے ڈیلیور کرنا ہوگا۔

تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت ابھی تک کسی بھی بڑے سے کچھ بھی نہیں نکلوا سکی ہے۔ چند ایک لیڈروں کو جیل میں بھی ڈالا گیا تاہم وہ جیل سے چھوٹ بھی گئے۔ شہباز شریف ، مریم نواز ، نواز شریف ، خواجہ آصف ، خواجہ سعد رفیق اور آصف علی زرداری سمیت بڑے بڑے لیڈر کرپشن کیسز کی بنیاد پر جیل گئے مگر پھر ضمانت کی بنیاد پر رہا ہو گئے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید خورشید شاہ جیل میں ہیں مگر ابھی تک ان سے بھی حکومت کچھ نکلوانے میں ناکام ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کسی بھی بڑے لیڈر سے کچھ نکلوانے میں ناکام رہی ہے اور ان کی حکومت کے تین سال بھی گزر گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو اپنے ساتھ دوبارہ عہد کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ ملک کی لوٹی ہوئی دولت واپس لائیں گے جو کہ وزیراعظم بننے سے پہلے ان کا بنیادی نعرہ تھا۔

متعلقہ تحاریر