پی ڈی ایم کامٹھی بھر کارکنان کے ہمراہ مہنگائی کے خلاف احتجاج  

پی ڈی ایم نے مہنگائی کے خلاف مظاہرہ کیا، جس میں جے یو آئی (ف) اور مسلم لیگ (ن) کے مقامی رہنماؤں اور کارکنوں نے شرکت کی۔

حزب اختلاف کی جماعتو ں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ ( پی ڈی ایم ) نے کمر توڑ مہنگائی کے خلاف  20 اکتوبر سے ملک بھر میں احتجاج اور ریلیوں کا اعلان کیا ہے جس کاآغاز گذشتہ روز مٹھی بھرکارکنان کے ہمرہ راولپنڈی سے کردیا گیا۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرشہباز شریف کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں مہنگائی اور معاشی بدحالی کے خلاف ملک گیر احتجاج شروع کرنے اور آغاز راولپنڈی سے کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جس کے بعد گذشتہ روز  حزب اختلاف کی جماعتوں کے کارکنوں نے ملک میں مہنگائی پر حکومت کے خلاف راولپنڈی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا، جس میں جے یو آئی (ف) اور مسلم لیگ (ن) کے مقامی رہنماؤں اور کارکنوں نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیے

پی ڈی ایم احتجاج اور ٹی ایل پی دھرنا، محض اتفاق ہے؟

کشمیر میں شکست، کیا مریم اس مرتبہ دھرنا دے پائیں گی؟

پی ڈی ایم کے کارکنان نے انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے مری روڈ پر لگائی گئی تمام کاوٹوں کو ہٹا کر لیاقت باغ کے سامنے منعقد ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں پہنچے  تاہم ان کی تعداد کو انگلیوں پر گنا جاسکتا تھا ، حکومت کے خلاف  ہونے والے احتجاج میں مٹھی بھر کارکنان نے شرکت کی ، مظاہرے کے دوران حکومت کے خلاف آٹا چور ، بجلی چور اور گیس چور حکومت کے نعرے لگائے گئے۔ مسلم لیگ (ن) کی خواتین کارکنان نے مری روڈ پر دھرنا دے دیا۔

مسلم لیگ نواز  کے مٹھی بھر کارکنان نے مری روڈ کو درجنوں گاڑیاں کھڑی کرکے بلاک کردیا جس کے باعث مری روڈ کئی کھنٹوں تک بلا ک رہا اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں، حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ  پی ڈی ایم کی جانب سے مٹھی بھر کارکنان کے ساتھ احتجاج سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے، مسلم لیگ ن کے کارکنان بھی حکومت کے خلاف احتجاج میں شامل نہیں ہورہے ہیں، اگر ایسا احتجاج  روز بھی کیا جائے توبھی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

متعلقہ تحاریر