وفاقی حکومت نے ریلیف پیکج کے اگلے روز ہی پیٹرول بم گرا دیا
وزیراعظم عمران خان نے 3 نومبر کو قوم سے خطاب میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہ بھی دیا تھا۔
وفاقی حکومت نے مہنگائی کی ماری عوام پر ایک اور پیٹرول بم گراتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے جس کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 145 روپے 82 پیسے ہو گئی ہے۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 8 روپے 3 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد نئی قیمت 145 روپے 82 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
چینی کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
عالمی سطح پر اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ
وزارت خزانہ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 8 روپے 14 پیسے فی لیٹر جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت 6 روپے 27 پیسے اضافے سے 116 روپے 53 پیسے ہوگئی ہے۔
اس کے علاوہ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 5 روپے 72 پیسے اضافہ، لائٹ ڈیزل آئل کی نئی قیمت 114 روپے 7 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے 3 نومبر کو قوم سے خطاب میں ریلیف پیکج کا اعلان کیا تھا جس میں انہوں نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہ بھی دیا تھا۔
گذشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے ریلیف پیکج سے متعلق قوم سے خطاب میں کہا تھا کہ دو کروڑ خاندانوں کے لیے پیکج لارہے ہیں جس سے 13 کروڑ پاکستانیوں کو فائدہ ہوگا۔ گھی، آٹا اور دال پر 30 فیصد سبسڈی ملے گی۔ ان کا کہنا تھاکہ 120 ارب روپے کا پیکج لارہے ہیں، کامیاب پاکستان پروگرام کے لیے 1400ارب روپے کی فنڈنگ رکھی ہے۔
واضح رہےکہ وزیراعظم کے ریلیف پیکج کو مسترد کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا تھا کہ کیا بجٹ دیتے ہوئے نہیں کہا گیا تھا کہ یہ ٹیکس فری بجٹ ہے ؟ اب قوم سے خطاب پر اعتراف کیا جا رہا ہے کہ پٹرول مہنگا ہوگا، جب پٹرول مزید مہنگا ہوگا، بجلی گیس کی قیمت بڑھے گی تو مہنگائی کیسے نہیں ہوگی ؟ حکومت کے بجٹ اعدادوشمار ناقابل اعتبار ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے لاڑکانہ میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کے بیان پر ردعمل میں کہا تھا کہ تحریک انصاف والے جھوٹے ہیں ، یہ ریلیف کے نام پر تکلیف دیتے ہیں ، عمران خان جھوٹ پر جھوٹ بولنے کے ماہر ہیں،کراچی کے لیے ہزاروں ارب روپے کے پیکج کے اعلانات لالی پاپ ثابت ہوئے۔ عوام کو لالی پاپ نہیں بلکہ عمران خان سے حساب چاہیے۔
واضح رہے کہ ملک میں مہنگائی کی شرح مسلسل بڑھے جارہی ہے مارکیٹوں میں گھی تیل سمیت اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔ گذشتہ دو ماہ کے دوران گھی و تیل کی قیمتوں میں 90 روپے فی کلو اضافہ ہوا ہے، درجہ اول گھی کی قیمت 400 روپے ہو گئی ہے اور درجہ اول آئل کی قیمت 410 روپے ہو گئی ہے۔ درجہ دوم گھی کی قیمت 350 روپے رہی اور درجہ سوم بھی 330 روپے کلو فروخت ہو رہا ہے۔









