ڈالر کی پھر اونچی اڑان،اسٹاک مارکیٹ میں مندی،تجارتی خسارہ مزید کم
کاروباری ہفتے کے دوسرے روز انٹر بینک میں ڈالر 1 روپے 12 پیسے مہنگا جبکہ پی ایس ایکس 100 انڈیکس میں 715 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
روپے کے مقابلے میں ڈالر کی پھر اونچی اڑان دیکھنے میں آئی۔ انٹر بینک میں ڈالر ایک روپے بارہ پیسے اور اوپن مارکیٹ میں ایک روپے 80 پیسے مہنگا ہو گیا۔ اسٹاک مارکیٹ میں بھی مندی کے ڈیرے رہے اور 100 انڈیکس 47 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد بھی گنوا بیٹھی۔
منگل کو انٹر بینک میں ڈالر ایک روپے 12 پیسے اضافے سے 171 روپے 63 پیسے پر بند ہوا جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر ایک روپے 80 پیسے اضافے سے 174 روپے 80 پیسے پر بند ہوا۔
یہ بھی پڑھیے
مفتاح اسماعیل کو تیل کی قیمتوں پر دروغ گوئی مہنگی پڑگئی
گیس بحران سے بچنے کیلئے تاریخ کا مہنگا ترین ایل این جی کارگو خریدنے کا فیصلہ
دوسری جانب اسٹاک مارکیٹ میں بھی مندی کا رجحان رہا۔ 100 انڈکس 715 پوائنٹس کی کمی کے بعد 46 ہزار 399 کی سطح پر بند ہوا۔
ادھر رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں تجارتی خسارے میں گذشتہ سال کے مقابلے میں معمولی کمی ہوئی ہے۔ مالی سال 2021-22 کی پہلی سہ ماہی میں تجارتی خسارہ جی ڈی پی کا 0.8 فیصد رہا جوکہ گذشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 1.1 فیصد رہا تھا۔ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ایف بی آر نے محصولات کی مد میں 13.97 کھرب روپے جمع کیے جو گذشتہ سال کے اس عرصے میں 10.10 کھرب رہا تھا۔ مالی سال 2021-22 کی پہلی سہ ماہی میں قرضوں اور سود کی ادائیگی میں 16 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
رواں مالی سال پاکستان نے قرضوں اور سود کی مد میں 623 ارب روپے ادا کیے جبکہ گذشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 742 ارب روپے ادا کیے گئے تھے۔ اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں دفاعی اخراجات میں 17 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں دفاعی اخراجات 262 ارب روپے رہے جبکہ گذشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں یہ اخراجات 224 ارب روپے ریکارڈ کیے گئے تھے۔
رواں مالی کی پہلی سہ ماہی میں پٹرولیم لیوی کی وصولی میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پٹرولیم لیوی کی مد میں حکومت نے 13.3 ارب روپے حاصل کیے جبکہ پچھلے سال اسی مدت کے دوران پٹرولیم لیوی کی مد میں 136ارب روپے حاصل کیے گئے تھے۔









